ڈیجیٹل معیشت کا نفاذ اور مصنوعی ذہانت سے ترقی کی نئی راہیں:وزیراعظم

 ڈیجیٹل معیشت کا نفاذ اور مصنوعی ذہانت سے ترقی کی نئی راہیں:وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور مصنوعی ذہانت (AI) کے مؤثر نفاذ کے ذریعے پاکستان کو جدید ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت مصنوعی ذہانت کے فروغ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کو ترجیہی بنیادوں پر فروغ دے رہی ہے تاکہ معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت کو صنعتی پیداوار میں اضافے، شفاف طرزِ حکمرانی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل معیشت کے نفاذ کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید مؤثر اور تیز بنایا جائے تاکہ پاکستان خطے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت سے متعلق قومی پالیسی کے مؤثر نفاذ کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن، پرائیویسی اور ڈیٹا سورینیٹی جیسے پہلوؤں کو خاص طور پر مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے فوائد تعلیم، صحت، زراعت، سکیورٹی اور عوامی فلاح کے شعبوں تک پہنچنے چاہئیں۔

اجلاس میں وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے فروغ اور نفاذ کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی، جو پالیسیوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔ اس کے علاوہ ماہرین پر مشتمل ایک ایڈوائزری پینل بھی قائم کیا جا رہا ہے جو تکنیکی رہنمائی فراہم کرے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی بلال بن ثاقب، اعلیٰ سرکاری افسران اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے شرکت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نوجوان آبادی اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بدولت مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے، اور حکومت اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔