امریکی اخبار کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر ٹرانزٹ ٹول کرپٹو کرنسی میں وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر پابندیوں اور مالیاتی نگرانی سے بچنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی اس ممکنہ پالیسی نے ملک کی 7.8 ارب ڈالرز کی کرپٹو معیشت اور مرکزی مالیاتی نظام سے باہر کام کرنے والی ریاستوں میں ڈیجیٹل کرنسی کے کردار پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ایران کی آئل، گیس اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات برآمد کرنے والی یونین کے ترجمان حمید حسینی کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں سے فی بیرل 1 ڈالر فیس وصول کر رہا ہے اور یہ ادائیگیاں کرپٹو کرنسی میں کرنے کی خواہش رکھتا ہے تاکہ انہیں پابندیوں کے باعث ٹریک یا ضبط نہ کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور اس سے منسلک گروہ مبینہ طور پر تجارتی سرگرمیوں، اسلحے اور دیگر اشیاء کی خریداری کے لیے کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں۔تجزیہ کار ادارے چینالیسس کے مطابق اس شعبے کی نصف سے زائد سرگرمیاں انہی مقاصد کے لیے کی جا رہی ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے مرکزی بینک نے کم از کم 507 ملین ڈالر مالیت کی ٹیتھر کرپٹو کرنسی بھی حاصل کی ہے۔