کاشف بٹ
ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ برسوں سے رشوت کو برا کہتے ہیں، لیکن جب کام پھنس جائے تو جیب میں ہاتھ ڈال کر ایسے نوٹ نکالتے ہیں جیسے سرکاری فیس جمع کروانے آئے ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فیس کی رسید ملتی ہے اور رشوت میں عموماً صرف یہ تسلی ملتی ہے کہ ’’کام ہو جائے گا‘‘۔
اب حکومت اور پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ رشوت کے اس پرانے رواج کو جڑ سے اکھاڑا جائے گا۔ نئی پالیسی کا خلاصہ بڑا سادہ ہے: رشوت مانگنے والا بھی نہیں بچے گا اور رشوت پیش کرنے والا بھی نہیں!یعنی وہ زمانہ شاید ختم ہونے کو ہے جب شہری پولیس اہلکار سے کہتا تھا، ’’صاحب، کوئی راستہ نکالیں‘‘ اور اہلکار نظریں نیچی کرکے کہتا تھا، ’’آپ خود سمجھدار ہیں۔‘‘ اب اگر شہری سمجھداری دکھاتے ہوئے جیب سے پانچ ہزار روپے نکالے تو ممکن ہے اگلے لمحے وہی پانچ ہزار روپے بطور ثبوت پولیس کے قبضے میں ہوں اور شہری خود مقدمے کا ’’مرکزی کردار‘‘ بن جائے۔لاہور میں حالیہ دنوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں شہریوں نے پولیس کو رشوت دینے کی کوشش کی اور ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ ایک واقعے میں پانچ ہزار روپے جبکہ دوسرے میں ایک ہزار روپے دینے کی مبینہ کوشش کی گئی۔ پولیس نے رقم بطور ثبوت قبضے میں لے لی۔یہ خبر ان لوگوں کے لیے خاصی پریشان کن ہے جو سمجھتے تھے کہ رشوت صرف لینے والے کی غلطی ہے۔ اب انہیں شاید نئے سرے سے قانون کی کتاب پڑھنا پڑے گی۔ کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ’’رشوت کس نے مانگی؟‘‘ سوال یہ بھی ہے کہ ’’رشوت کس نے پیش کی؟‘‘اور یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ایک پولیس اہلکار رشوت مانگتا ہے اور شہری رشوت دیتا ہے تو دونوں غلط ہیں۔ لیکن اگر شہری خود جیب سے رقم نکال کر کہے کہ ’’صاحب، معاملہ ختم کر دیں‘‘ تو کیا اسے یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ وہ قانون کے ساتھ سودا کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ رشوت کا بازار صرف رشوت لینے والے سے نہیں چلتا۔ دینے والا بھی اس بازار کا گاہک ہے۔ہم نے رشوت کو بھی عجیب فلسفہ بنا رکھا ہے۔ کام جائز ہو تو رشوت کیوں؟ کام ناجائز ہو تو رشوت کیوں؟ مگر ہماری اجتماعی نفسیات میں ایک تیسری قسم بھی پیدا ہو گئی ہے: ’’بس کام جلدی ہو جائے۔‘‘
یہ ’’جلدی‘‘ بعض اوقات پورے نظام کو کھا جاتی ہے۔
پولیس کے لیے بھی یہ پالیسی ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر کوئی اہلکار شہری سے رشوت مانگتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ وردی اختیار اور اعتماد کی علامت ہے، ذاتی آمدنی کا ذریعہ نہیں۔ دوسری طرف اگر کوئی شہری قانونی کارروائی سے بچنے یا ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے رشوت پیش کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ لاہور پولیس بھی یہی مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ رشوت طلب کرنے والے اہلکار ہوں یا رشوت کی پیشکش کرنے والے افراد، کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
یہاں حکومت کو ایک قدم اور آگے جانا ہوگا۔ صرف مقدمات درج کرنے سے رشوت ختم نہیں ہوگی۔ رشوت کے اسباب بھی ختم کرنا ہوں گے۔جس دفتر میں شہری کو معمولی کام کے لیے پانچ کھڑکیوں، سات میزوں اور دس دستخطوں کے چکر لگوائے جائیں گے، وہاں کوئی نہ کوئی
شخص آخرکار ’’شارٹ کٹ‘‘ تلاش کرے گا۔ اور جہاں اہلکار کو معلوم ہو کہ شکایت کا نظام کمزور ہے، وہاں بدعنوانی کے امکانات بڑھیں گے۔اس لیے احتساب دونوں طرف ہونا چاہیے۔ پولیس اہلکار کے لیے واضح پیغام ہو کہ رشوت مانگی تو وردی تحفظ نہیں دے گی، اور شہری کے لیے بھی پیغام ہو کہ رشوت دے کر قانون سے بچنے کی کوشش کی تو جیب ہلکی ہونے کے ساتھ مقدمہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔پنجاب پولیس کے شکایتی نظام میں غیر قانونی رقم طلب کرنے کی شکایات کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے اور ایسی شکایات پر مقررہ مدت میں کارروائی کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
اب اصل ضرورت یہ ہے کہ ’’رشوت دوں تو کام جلدی ہوگا‘‘ والی قومی سوچ کو ’’رشوت دوں گا تو مسئلہ مزید بڑھ جائے گا‘‘ میں تبدیل کیا جائے۔ورنہ صورت حال یہ ہوگی کہ حکومت رشوت ختم کرنے کے لیے نئی نئی پالیسیاں بناتی رہے گی، پولیس کارروائیاں کرتی رہے گی، مقدمات درج ہوتے رہیں گے، اور عوام جیب میں ہاتھ ڈال کر سوچتے رہیں گے کہ ’’پانچ سو دوں یا ہزار؟‘‘بس فرق اتنا ہوگا کہ اب سامنے والا شاید رقم لینے کے بجائے کہے:’’جناب! پیسے واپس جیب میں رکھیں، ورنہ اگلی ایف آئی آر آپ کے نام ہوگی۔‘‘
شاید یہی وہ دن ہوگا جب رشوت کا سب سے بڑا نقصان پہلی مرتبہ رشوت دینے والے کو بھی سمجھ آئے گا۔اور جب لینے والا ڈرے، دینے والا بھی ڈرے، اور قانون دونوں کو برابر دیکھے، تب کہیں جا کر رشوت کے خلاف جنگ محض تقریر نہیں بلکہ ایک حقیقی پالیسی بنے گی