اسرائیلی کابینہ نے غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دیدی‘ حماس نے بھی مستقل جنگ بندی کا اعلان کر دیا
امریکہ کا غز ہ جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کیلئے 200 اہلکار تعینات کرنیکا فیصلہ‘ اسرائیلی یرغمالی پیر یا منگل تک رہا ہو جائیں گے: ٹر مپ
غزہ،تل ابیب ،واشنگٹن (آئی این پی )اسرائیلی کابینہ سے امن معاہدے کی منظوری کے بعدغزہ میں تعینات اسرائیلی افواج نے بتدریج انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کا مشاہدہ صبح اس وقت ہوا جب ایک فوجی کیمپ میں موجود اہلکاروں کو اپنا سامان باندھتے ہوئے دیکھا گیا۔اسرائیلی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں فوجیوں کو کیمپ خالی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے‘اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق حکومت نے تمام یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔معاہدے کے تحت تقریبا 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کے جزوی انخلا کے بدلے یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج اب غزہ کی پٹی کے اندر نئی پوزیشنز پر منتقل ہوگی تاہم علاقے کے تقریبا 53 فیصد حصے پر کنٹرول برقرار رکھے گی جس کے بعد 72 گھنٹوں کا وقت دیا جائے گا، اس دوران حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔حماس رہنما خلیل الحیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں،۔ دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے غزہ کی جنگ ختم کرادی ہے اور مشرق وسطی میں تاریخی امن معاہدہ طے پا چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم پیر یا منگل تک تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی یقینی بنا دیں گے، اور میں خود مصر جا رہا ہوں جہاں جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط ہوں گے۔امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ غزہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے اہم تھا ہم غزہ میں جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے کامیاب ہو گئے۔