حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کردی، ہم امن معاہدے کی تکمیل کیلئے پرعزم ہیں، خلیل الحیا ن
غزہ(آئی این پی )غزہ کے شہر رفح میں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان مبینہ جھڑپ میں اسرائیلی فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے جبکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کردی ،حماس کے رہنما اور چیف مذاکراتکار خلیل الحیا نے کہا ہے کہ ہم امن معاہدے کی تکمیلکیلئے پرعزم ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کے شہر رفح میں حماس اور اسرائیلی فوج کے دوران جھڑپ کا واقعہ پیش آیا جس کے لیے دونوں نے ایک دوسرے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اس جھڑپ میں اسرائیلی فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے جن 2 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ان کی شناخت کمانڈگ آفیسر 26 سالہ میجر یانیو کولو اور سٹاف سارجنٹ 21 سالہ اِتائے یاویٹس کے نام سے ہوئی ہے۔مارے گئے دونوں فوجیوں کا تعلق نہال بریگیڈ کی 932 ویں بٹالین سے تھا، حماس نے یہ حملہ رفح کے جنوب مشرقی علاقے میں اس وقت کیا جب اسرائیلی فوج حماس کی سرنگوں اور انفراسٹرکچر کے ملبے کو اٹھا رہی تھی۔اس دوران حماس کے جنگجو ایک سرنگ سے اچانک نمودار ہوئے اور راکٹ حملے سے ایک ایکسکیویٹر کو نشانہ بنایا، اس حملے میں دو اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ سنائپر کی فائرنگ میں مزید 3 اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے۔زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اسرائیل نے اس واقعہ کو غزہ جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ اسرائیلی کنٹرول میں تھا اور وہاں ان کے جنگجو متحرک نہیں تھے۔ادھر حماس نے غزہ میں یرغمالی کی لاش ریڈ کراس کے حوالے کی جس کے بعد اس نے لاش کو اسرائیلی فوج کے سپرد کیا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہیکہ لاش کو پولیس کی نگرانی میں تل ابیب کے ابو کبیر فرانزک انسٹی ٹیوٹ منتقل کردیاگیا جہاں لاش کی شناخت کا عمل دو دن تک جاری رہ سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق حماس کی جانب سے اب تک 13 یرغمالیوں کی لاشوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جاچکا ہے