مشرف کے آئین سے خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 کا سامنا، وقت آنے پر سب کا احتساب ہوگا:لطیف کھوسہ

مشرف کے آئین سے خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 کا سامنا، وقت آنے پر سب کا احتساب ہوگا:لطیف کھوسہ

 ں پی ٹی آئی رہنما اور دیگر سیاستدانوں نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف شدید احتجاج اور تنقید کا اظہار کیا ہے۔

 اس ترمیم کو وہ پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

سردار لطیف کھوسہ کا موقف:

انہوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو آئین سے کھلواڑ کرنے کے جرم میں آرٹیکل 6 کا سامنا کرنا پڑا، مگر 27ویں ترمیم کے بعد بھی یہ آرٹیکل موجود ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خود مختاری کو کمزور کیا جا رہا ہے اور عدالتوں کو داغدار اور بے توقیر کیا جا رہا ہے۔لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کی حیثیت بھی ختم کی جا رہی ہے اور عدلیہ پر حکومت کا کنٹرول بڑھ رہا ہے، ججز کو ٹرانسفر کیا جا رہا ہے اور ان کے فیصلوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے خاص طور پر ذکر کیا کہ جب مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا انتقال ہوا، اس وقت حکومت نے ان کے لیے دعا کرنے کے بجائے اس ترمیم کو پاس کروایا، جو کہ وقت کی ناانصافی اور سیاست کی بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
سلمان اکرم راجا کا موقف:

انہوں نے بتایا کہ سینیٹ میں 27ویں ترمیم کل منظور کی گئی، اور اس دوران دو سینٹرز نے اپنی پارٹی سے غداری کی۔اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی حیثیت کو کمزور کر دیا گیا ہے اور صدر کو تمام مقدمات سے استثنا دیا گیا ہے، جس سے ہزاروں مقدمات متاثر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے ججز کے دل بجھے ہوئے ہیں اور وہ اس ترمیم سے شرمندہ ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے صدر اور آرمی چیف کو عمر بھر کے لیے استثنا دیا گیا ہے، اور اب کوئی مقدمہ بھی عدالت میں نہیں چل سکے گا اگر اس ترمیم کے مطابق عمل کیا جائے۔
علامہ راجا ناصر عباس کا موقف:

انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے چار خدا بنا دیے گئے ہیں، اور آئین کی اصل روح مسخ کی جا رہی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ آئین کی حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اور یہ ترمیم ملک کے آئینی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان سیاستدانوں کو پہچانیں جو ذاتی مفادات کے لیے عوام کا استحصال کر رہے ہیں اور انہیں ووٹ نہ دیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ خود کو جرم سے مستثنی قرار دے رہے ہیں، ان کے ارادے خطرناک ہیں اور ملک کو توڑنے کی سازش جاری ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کا موقف:

انہوں نے ججز سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اپنی فریضہ انجام دیں اور اپنے خیالات کا اظہار کریں۔انہوں نے کہا کہ ججز کے خطوط سامنے آئے ہیں، مگر معاملہ اب خط سے آگے جا چکا ہے، اور اگر ججز خاموش رہیں گے تو تاریخ میں گمنام رہیں گے۔انہوں نے دیگر ججز سے بھی اپیل کی کہ وہ سامنے آئیں اور عدلیہ کی قیادت کریں، کیونکہ عدلیہ کو ستو پی کر سونے کا تصور زائل ہو چکا ہے۔مجموعی طور پر، یہ پریس کانفرنس ملک میں آئینی بحران، عدلیہ کی آزادی، اور حکومتی اقدامات کے خلاف ایک زبردست احتجاج ہے۔سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ ترمیم سے آئین کی بنیادی اقدار، عدلیہ کی آزادی، اور عوام کے حقوق کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور یہ ملک کو مزید تقسیم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔یہ بیان ملک کی سیاسی صورت حال میں بڑے پیمانے پر عوامی شعور بیدار کرنے اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے کی کوشش ہے۔