ڈارک چاکلیٹ: حیران کن تحقیق سے معلوم ہوا فائدہ یا نقصان؟

ڈارک چاکلیٹ: حیران کن تحقیق سے معلوم ہوا فائدہ یا نقصان؟

جاپان میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈارک چاکلیٹ دماغ کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
’کرنٹ ریسرچ ان فوڈ سائنس‘ نامی جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق، اس میں موجود فلیوینولز مرکبات وقتی طور پر یادداشت اور ذہانت کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق، جب چوہوں کو فلیوینولز دیے گئے، تو ان کی یادداشت میں 30 فیصد بہتری دیکھی گئی، اور یہ اثر تقریباً ایک گھنٹے برقرار رہا۔ دماغ کے ’ہپوکیمپس‘ حصے کو فعال کرنے کے ذریعے، یہ مرکبات دماغ کے اندرونی ’انتباہی نظام‘ کو جگاتے ہیں اور توجہ بڑھاتے ہیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ فلیوینولز دماغ کے ’لوکس کوریولیس‘ حصے کو متحرک کرتے ہیں، جس سے ’نورایڈرینالین‘ نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے، جو توجہ اور یادداشت میں اضافہ کرتا ہے۔اس تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ وقتی طور پر ڈارک چاکلیٹ کھانا ذہن کو چوکس اور یادداشت کو بہتر بنا سکتا ہے، خاص طور پر پڑھائی یا ذہنی کام کے دوران۔