ایک نئی حیران کن تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہفتہ وار بنیادوں پر ڈراؤنے خواب دیکھنے والے افراد میں 70 سال کی عمر سے پہلے موت کا خطرہ تین گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق 183,000 بالغوں اور 2,400 بچوں پر کی گئی، جس نے نیند اور صحت کے درمیان گہرے تعلق کو بے نقاب کر دیا ہے۔
تحقیق کی نمایاں باتیں:
وہ افراد جو ہفتے میں کم از کم ایک بار ڈراؤنا خواب دیکھتے تھے، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔ان افراد کے ڈی این اے میں "ٹیلومیرز" (telomeres) کی لمبائی بھی کم تھی — جو کہ خلیاتی عمر رسیدگی (cellular aging) کا ایک اہم اشارہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈراؤنے خواب کے دوران اسٹریس ہارمون "کورٹیسول" کے مسلسل اخراج سے دماغی اور جسمانی نظام متاثر ہوتے ہیں، اور خلیاتی مرمت کا عمل سست ہو جاتا ہے۔
طبی و نفسیاتی اثرات:
متعدد دیگر مطالعات سے بھی اس تحقیق کی توثیق ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ:ڈراؤنے خواب کا ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، اور دماغی صحت سے گہرا تعلق ہے۔یہ خواب خلیاتی عمر کو تیز کرتے ہیں، جو لمبی عمر کے خلاف ایک خاموش خطرہ ہیں۔نوجوانوں میں ڈراؤنے خواب ڈپریشن، بے چینی، اور خودکشی کے خیالات سے براہ راست جُڑے پائے گئے ہیں۔
ماہرین کی تجویز:
نیند کے ماہرین اور سائیکولوجسٹ مشورہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی فرد بار بار ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے تو:نیند کا معیاری وقت اور ماحول بہتر بنایا جائے۔ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے ریلیکسیشن تکنیک (جیسے مراقبہ، یوگا) اپنائی جائیں۔پیشہ ورانہ نفسیاتی مدد حاصل کی جائے، خاص طور پر اگر خواب طویل عرصے سے آ رہے ہوں یا روزمرہ زندگی پر اثر ڈال رہے ہوں۔