ماں سے جدا ہونے پر بچوں کو وائلڈ لائف ہسپتال میں کامیابی سے پروان چڑھایا گیا
چند ماہ قبل جہلم سے سمگلنگ ناکام بناکر بچوں کوبازیاب کرواکر لاہور منتقل کیاگیاتھا
لاہور (خصوصی رپورٹ)پنجاب کے نایاب اور قومی جنگلی جانور اڑیال کی بقا کی لاہور سفاری پارک کے وائلڈ لائف ہسپتال میں نئی امید سامنے آئی ہیجہاں 3ننھے اڑیال بچوں کو ماں سے جدا ہونے کے باوجود کامیابی سے مصنوعی خوراک کے ذریعے پروان چڑھایا گیا۔ یہ بچے چند ماہ قبل جہلم سے بازیاب کیے گئے تھے جہاں ایک شخص انہیں سمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ محکمہ وائلڈ لائف کی بروقت کارروائی پر ملزم کو گرفتار جبکہ بچوں کو لاہور سفارپارک منتقل کر دیا گیا۔ تینوں بچے نہایت کمزور اور دیکھ بھال کے محتاج تھے۔ وائلڈ لائف ہسپتال کے ماہرین نے دن رات محنت کرکے انہیں صحتمند بنایا۔ڈائریکٹر وائلڈ لائف ہسپتال ڈاکٹر رضوان خان کا کہنا ہے کہ پنجاب کی سالٹ رینج اڑیال کا قدرتی مسکن ہے مگر بریڈنگ سیزن کے دوران شکاری اکثر انکے بچوں کو پکڑ کر فروخت یا سمگل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماضی میں ماں سے جدا اڑیال بچوں کی زندہ رہنے کی شرح کم رہی مگر اس بار ہم نے جدید سائنسی طریقہ اپنایا، خوراک، حفاظتی ادویات کا باقاعدہ شیڈول مرتب کیا اور روزانہ رپورٹ تیار کی۔ نتیجتاً تینوں بچے تیزی سے صحتیاب ہوئے۔ویٹرنری ماہر ڈاکٹر عبدالرحمن کے مطابق بچوں کیلئے دودھ کے ساتھ ٹوٹل مکسڈ ریشن (TMR)پر مشتمل خصوصی خوراک تیار کی گئی تاکہ تمام ضروری غذائی اجزا یکساں فراہم ہو سکیں۔ ساتھ ہی باقاعدگی سے ٹیسٹ کیے گئے تاکہ کسی بھی بیماری کی بروقت تشخیص ہو۔سفاری زو کے کیئر ٹیکرز کا کہنا ہے کہ عملے نے ننھے اڑیالوں کو اپنے بچوں کی طرح سنبھالا۔وائلڈ لائف ماہرین کے مطابق پنجاب میں پہلی مرتبہ اڑیال کے بچوں کو باقاعدہ سائنسی بنیادوں پر مصنوعی خوراک کے ذریعے کامیابی سے پروان چڑھایا گیا جو جنگلی حیات کے تحفظ میں اہم سنگ میل ہے۔