پاکستان تیار، افغان حکومت اگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے تو تعاون کرے گا:وزیراعظم

پاکستان تیار، افغان حکومت اگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے تو تعاون کرے گا:وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، کیونکہ پاکستان اس معاملے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

 انہوں نے یہ باتیں اسلام آباد میں جاری دو روزہ بین الاپارلیمانی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہیں۔انہوں نے کہا کہ امن اور استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں، اور پاکستان سمجھتا ہے کہ ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں اور اپنی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ کارکردگی سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے ہیں۔ انہوں نے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مئی میں مشرقی سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کی گئی، اور گزشتہ ماہ افغان سرزمین سے پاکستانی چوکیوں پر حملے بھی ہوئے، جن کا پاکستان نے سخت اور فیصلہ کن جواب دیا۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت سے امن حاصل نہیں ہوسکتا۔

 اگر افغان حکومت ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، تو پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ علاقے میں امن و استحکام برقرار رہ سکے۔یاد رہے کہ اسلام آباد میں جاری اس کانفرنس میں آذربائیجان، ازبکستان، کینیا، فلسطین، مراکش، روانڈا، لائبیریا، بارباڈوس اور نیپال کے وفود شریک ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کا مقصد مختلف ممالک کے پارلیمانی رہنماؤں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور علاقائی و عالمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہے۔