اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے افغان طالبان کے دعوؤں کو ناقابلِ اعتبار قرار دے دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ افغانستان میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی موجودگی نہیں، تاہم مختلف ممالک کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹس اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔ سلامتی کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، جماعت انصاراللہ اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین پر بدستور سرگرم ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی نے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ افغان طالبان کی قیادت، بشمول امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ، کے احکامات ملک بھر میں مؤثر انداز میں نافذ نہیں ہو رہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کو آزادانہ کارروائیوں کا موقع مل رہا ہے۔سلامتی کونسل نے مزید کہا کہ افغانستان میں قانون کی عملداری کمزور ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور خواتین و اقلیتیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت غیر پشتون آبادی کے ساتھ نسبتاً سخت رویہ اختیار کر رہی ہے۔