اختیارات کو ایک فرد کے ہاتھ میں مرکوز کرنا درست نہیں،آخر کب ہم بااختیار سویلین بنیں گے؟،شیرافضل مروت
اسلام آباد(آن لائن )قومی اسمبلی کے اجلاس میں حنیف عباسی اور شیر افضل مروت نے زور دار تقریریں کیں، جن میں دونوں نے ملک و فوج کے حق میں مؤقف اپنایا اور سیاسی مخالفین پر سخت تنقید کی۔ اجلاس میں پیش آنے والی گرما گرمی اور اختلافِ رائے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے کارروائی پیر صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔حنیف عباسی نے خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں آج جو مقام ہمیں پوری دنیا میں ملا ہے وہ پہلے کبھی نہ تھا۔ جو پاکستان پر یقین رکھتا ہے وہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔انہوں نے ملک کو توڑنے اور افراتفری پھیلانے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو پاکستان کا بدخواہ ہو گا اسے نہ پاکستانی مانیں گے نہ پاکستان میں رہنے دیں گے۔شیر افضل مروت نے اپنے خطاب کے آغاز میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی سفر میں متعدد بار جماعت سے نکالے جا چکے ہیں مگر ملک کے لیے وابستگی برقرار ہے۔ انہوں نے بی بی کے خاندان کے بارے میں ہونے والی باتوں پر دلی دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اس مٹی کے ہیں، اس کے لیے جان بھی قربان ہے۔ مروت نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جیل کی عذابات کا ذکر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ذاتی الزام تراشی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔مروت نے نیز موجودہ قانون سازی کے تناظر میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کو ایک فرد کے ہاتھ میں مرکوز کرنا درست نہیں اور سوال اٹھایا کہ آخر کب ہم بااختیار سویلین بنیں گے؟۔ انہوں نے عدالتی و سیاسی عمل کی آزادی کے لیے احتیاط کی تلقین کی اور انتباہ کیا کہ قبل از وقت فیصلوں سے سیاسی و قانونی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں