ترمیم پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بدنما داغ ہے‘پیپلز پارٹی وہ پارٹی نہیں رہی، اس کو ووٹ دینا جمہوریت کے ساتھ دشمنی ہوگی:اسد قیصر کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال
آصف زرداری کے پاس نہ کوئی ایگزیکٹو پاور تھی، نہ عہدہ، اس کے باوجود کئی سال جیل میں رکھا گیا‘9مئی کے واقعات کو قومی سانحہ قرار دے کر ذمہ داروں کو سزا دی جائے:پرویز اشرف
اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ سے متنازع آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معمولی کشیدگی کا شکار رہا، اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ترمیم کو‘‘پاکستان کی تاریخ کا سب سے بدنما داغ’’قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چھین کر‘‘ناجائز حکومت’’کھڑی کی گئی اور غیر منتخب پارلیمنٹ کو اس نوعیت کی قانون سازی کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ‘‘پیپلز پارٹی پیپلز پارٹی نہیں رہی، اس کو ووٹ دینا جمہوریت کے ساتھ دشمنی ہوگی، صدر زرداری کو لائف ٹائم استثنیٰ دلوا دیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے نے آئین کا جنازہ نکال دیا۔’’اسد قیصر نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت معاملے کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر جائے گی، عوامی سطح پر احتجاج کی کال بھی دے گا اور 12 تاریخ کو ''امن جرگہ'' طلب کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اپوزیشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ترمیمات ابھی تک ایوان میں پیش بھی نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا آصف زرداری کے پاس نہ کوئی ایگزیکٹو پاور تھی، نہ عہدہ، اس کے باوجود انہیں سالہا سال جیل میں رکھا گیا۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ قوم شہداء کے ساتھ کھڑی ہے اور فوج پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایوان میں مسلسل مداخلت کرنے والے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ‘‘آپ شور مچانے والی مشین تو ہوسکتے ہیں، پارلیمنٹیرین بننا سیکھیں۔’’تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے‘‘بی بی ہم شرمندہ ہیں، تیرے قاتل زندہ ہیں’’کے نعرے لگائے، جس سے ماحول مزید کشیدہ ہوتا رہا۔