علی امین گنڈا پوراحتجاجی تحریک کا اعلان موخر
کارکن تیاری شروع کردیں ، کال ملے تو بوریا بستر اور سرپر سفید چاردر لیکر نکل پڑیں، بلوچستان اور سندھ میں ہمارے لوگوں کیساتھ جو ہورہا ہے ہم اس کا جواب لیں گے:وزیرعلیٰ پختونخوا،عمران خان کی رہائی بہت قریب :بیرسٹر گوہر،کسی کی دھونس اور دھمکی میں نہیں آئیں گے:اسد قیصر، :بیرسٹر سیف
صوابی(خصوصی رپورٹ )پاکستان تحریک انصاف کے زیراہتمام صوابی میں جلسہ اختتام پذیر ہوگیا جبکہ کسی بھی لائحہ عمل کا اعلان نہ ہوسکا۔علی امین گنڈاپور نے جلسے میں اعلان کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان اسی مہینے فائنل کال دیں گے، کارکنان اس کے لیے تیاری شروع کردیں، اب ہم اپنے قائد کو رہا کروائے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ اپنے کارکنوں کی طرف دیکھتا ہوں کیونکہ آپ عمران خان اور حقیقی آزادی کی طاقت ہیں، پاکستان کو آزاد کرانے کے لیے ہمارے آباؤاجداد نے قربانیاں دیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی قربانی کے بغیر نہیں ملتی، اب ہمیں بانی پی ٹی آئی کی سربراہی میں حقیقی آزادی کے لیے نکلنا ہے، آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ عمران خان کے دیے گئے ہر حکم پر اپنا تن، من، دھن قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔علی امین گنڈاپور نے کہاکہ کارکنان آج سے فائنل معرکے کی تیاری شروع کردیں، جب بھی کال ملے تو بوریا بستر سمیت ایک سفید چادر سر پر لینی ہے اورعمران خان کو رہا کروانے تک واپس نہیں آئیں گے۔ صوابی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہاتھ اٹھا کر حلف دو ،بانی کی کال پر رہائی تک واپس نہیں آئینگے ، حقیقی آزادی لینے تک ہماری جنگ جاری رہے گی۔ پارٹی میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس کے حقدار صرف بانی پی ٹی آئی ہیں، ان کے ہر فیصلے پر عملدرآمد کریں گے۔ ہمارا لیڈر اور دیگر لوگ جیلوں میں ہیں ان کا حساب دینا ہوگا، بلوچستان اور سندھ میں ہمارے لوگوں کیساتھ جو ہورہا ہے ہم اس کا جواب لیں گے۔ پی ٹی آئی میں آیا تو میرے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا، پہلا جمہوری الیکشن ہوا تو پہلا عہدہ ملا، آپ نے بھی خود کو ثابت کرکے یہاں آنا ہے، لوگ باتوں نہیں عمل سے ثابت ہوتے ہیں ،ہمیشہ عوام کی طرف دیکھتا ہوں، آپ بانی پی ٹی آئی کی طاقت ہیں ،ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں سے پاکستان آزاد ہوا، ہمیں اپنے حق کے لئے قربانی د ینا پڑے گی۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج صوابی میں ہونے والے جلسے میں ریفرنڈم ہوگیا ہے، اب عمران خان کی رہائی بہت قریب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد کچھ لوگ اپنی پرانی ٹوئٹس ڈیلیٹ کررہے ہیں، لیکن میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم امریکا سے مدد کے طلبگار نہیں، تبدیلی پاکستان کے اندر سے ہی آئے گی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو باہر رکھ کر پاکستان کی سیاست مکمل نہیں ہوسکتی، وہ ایک ہی بات کرتے ہیں کہ میں عوام کے حقوق کی خاطر جیل میں ہوں،بانی پی ٹی آئی کو سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے لیکن انہوں نے کبھی بیمار ہونے کا شکوہ نہیں کیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے مرضی کی عدلیہ چاہتی ہے لیکن ہم عدلیہ کو آزاد کروا کر دم لیں گے۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ آج ملک میں جبر کا جو نظام قائم ہے اس کے سامنے کسی پاکستانی کی کوئی حیثیت نہیں، عمران خان کا قوم کے نام پیغام ہے کہ پاکستان کی سڑکیں تمہاری منتظر ہیں۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہنا تھا کہ ہم اپنے شہری حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے، اور نہ ہی کسی کی دھونس اور دھمکی میں آئیں گے۔ پی ٹی آئی کے رہنماء بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ایک بیان میں کہا کہ صوابی جلسے سے جعلی حکومت کے کانپیں ٹانگنا شروع گئی، صوابی جلسہ آئین شکنوں کے لئے ڈرائونے خواب سے کم نہیں ،کل سے عطا تارڑ کی چیخیں جعلی حکومت کے خواس باختہ ہونے کی ترجمانی کررہا ہے، صوابی جلسہ جعلی حکومت کے خاتمے اور عمران خان کی رہائی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا، ملک میں جمہوریت اور آئین کا گلا گھونٹنے والوں سے پورا حساب لیا جائے گا، مینڈیٹ چوروں سے مینڈیٹ واپس چھیننے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔