اگست، ستمبر اور اکتوبر دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے بدترین ماہ ثابت
نوشکی ،شعبان ،گوادر،موسیٰ خیل ،قلات ،بولان ،پنجگور،دکی کے علاقے متاثر
کوئٹہ( مانیٹرنگ ڈیسک )کوئٹہ دھماکے میں 27افراد جاں بحق جبکہ 70 کے قریب زخمی ہوئے بلوچستان میں گزشتہ 8ماہ کے دوران دہشت گردی کے کئی واقعات میں 120افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اگست، ستمبر اور اکتوبر دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے بدترین ماہ ثابت ہوئے۔ مارچ2024میں نوشکی کے قریب دہشت گردوں نے بس سے اتار کر 9افراد کو قتل کر دیا۔جون میں بلوچستان کے تفریحی مقام شعبان میں دہشت گردوں نے5افراد کو اغواء کر لیا ، جس کے بارے میں مختلف ذرائع یہ گمان کر رہے ہیں کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے تاہم اب تک ان افراد کی لاشیں نہیں مل سکیں۔8مئی کو گوادر کے علاقے میں مسلح افراد نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7مزدوروں کو بے دردری سے فائرنگ کر کے قتل کیا۔26اگست کو دہشت گردی کے تین مختلف واقعات میں موسی خیل، قلات اور بولان میں مجموعی طورپر 36افراد کو قتل کر دیا گیا۔ستمبر کے اوائل میں نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ سے ایک شخص کو قتل کیا جبکہ 28ستمبر کو پنجگور کے علاقے میں دہشت گردوں نے 7مزدوروں کو قتل کر دیا۔ اکتوبر میں دکی میں کوئلہ کان میں کام کرنے والے21مزدور مسلح دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنے جبکہ نوشکی میں 2افراد کو مسلح افراد نے قتل کیا اورگزشتہ روز 9نومبر کو کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والے خود کش دھماکے میں 27افراد جاں بحق اوربیسیوں زخمی ہوگئے۔ واضح رہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں شہید ہونے والے اہلکار شامل نہیں ہیں۔