پاکستان کو رواں سال کے آخر تک J-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے ملنے کا امکان ہے: چینی میڈیا

پاکستان کو رواں سال کے آخر تک J-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے ملنے کا امکان ہے: چینی میڈیا

پاکستان کو رواں سال کے آخر تک چینی ساختہ ففتھ جنریشن اسٹیلتھ لڑاکا طیارے جے-35 ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جسے پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق طارق غازی نے تصدیق کی ہے کہ جے-35 کے حصول کے لیے ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔ تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات اور تعداد کے بارے میں باضابطہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان، چین سے حاصل کردہ چینگڈو جے-10 سی طیاروں کی تعداد بڑھانے اور مشترکہ طور پر تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر کو مزید اپ گریڈ کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی پر جے-35 کے مکمل آپریشنل ایکسپورٹ ورژن کی نمائش کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ پاکستان ممکنہ طور پر اس جدید اسٹیلتھ طیارے کا پہلا غیر ملکی خریدار بن سکتا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ مکمل ہوتا ہے تو یہ جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ جے-35 کو جدید ریڈار سے بچنے والی ٹیکنالوجی، جدید ایویونکس اور لانگ رینج جنگی صلاحیتوں کے باعث چین کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔