چینی خبر کے مطابق، ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ چین کے پہلے اسٹیلتھ طیارے، J-35AE کا ایک نیا نمونہ تیار ہو چکا ہے جس پر چینی فضائیہ کے بجائے سرکاری ادارے، ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چین کا لوگو نصب ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ یہ طیارہ اب صرف ملکی دفاع کے لیے نہیں بلکہ بیرون ملک برآمد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔اخبار کے مطابق، حکومتِ چین نے اس طیارے کی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اولین ممکنہ خریدار پاکستان ہے۔ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات کے لیے 80 فیصد اسلحہ چین سے حاصل کرتا ہے، اس لیے اسے یہ جدید ففتھ جنریشن اسٹیلتھ طیارہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان کو یہ J-35AE طیارہ مل جاتا ہے، تو یہ اس کی فضائی قوت کو بہت زیادہ مضبوط کرے گا۔ یہ طیارہ جدید ترین آلات سے لیس ہے، جن کی مدد سے بھارتی ریڈار جام کی جا سکتی ہے، اور دشمن کی اہم عسکری تنصیبات کو جدید میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں قابلِ ذکر اضافہ ہوگا اور وہ بھارتی فضائیہ کے مقابلے میں ایک بہتر پوزیشن حاصل کرے گا۔مزید برآں، اس طیارے کی پاکستان میں شمولیت سے نہ صرف ملکی دفاع مضبوط ہوگا بلکہ پاک چین تعلقات اور دفاعی تعاون میں بھی ایک نیا باب رقم ہوگا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی اور شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا، اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔