لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں بجلی چوری کی بنیاد پر ٹارگٹڈ لوڈشیڈنگ اور نظام کی بہتری کے لیے شروع کیا جانے والا میگا پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت جدید ٹرانسفارمرز اور دیگر ضروری آلات کی خریداری کے لیے جاری کیا گیا ٹینڈر ابتدائی طور پر منسوخ (سکریپ) کر دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں خریداری کے عمل کو دوبارہ شروع کیا گیا۔منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً ایک ارب 50 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس کے تحت بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے اور چوری کی روک تھام کے لیے جدید ٹرانسفارمرز اور متعلقہ انفراسٹرکچر نصب کیا جانا ہے۔
ذرائع کے مطابق لیسکو نے “ایسٹ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم” کے تحت نئے ٹرانسفارمرز کی تنصیب کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں 913 کے وی اے اور 1300 کے وی اے کی گنجائش والے ٹرانسفارمرز شامل ہیں۔ ان ٹرانسفارمرز کو اس انداز میں استعمال کیا جائے گا کہ بجلی چوری کی صورت میں انہیں آن لائن مانیٹرنگ کے ذریعے کنٹرول یا ضرورت پڑنے پر بند کیا جا سکے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف بجلی چوری پر قابو پانا ہے بلکہ مجموعی تقسیم کار نظام کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانا ہے۔ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے مکمل کیا جانا تھا، تاہم ٹینڈر کے بار بار منسوخ اور دوبارہ اجرا کے باعث اس پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے۔