اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کے امور کا تفصیلی اجلاس ہوا۔
اس اجلاس میں ملک میں آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کی ترقی اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا اور گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر میں آسان خدمت مراکز کے قیام کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے صوبوں کے ساتھ مل کر آسان خدمات کی سہولیات کو وسعت دینے اور شہری و دیہی علاقوں میں آئی ٹی کے فرق کو کم کرنے پر بھی زور دیا۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ملک بھر میں گھریلو انٹرنیٹ کنکشنز کی تعداد 2024 میں 1.9 ملین سے بڑھ کر 2026 میں 5.10 ملین تک پہنچ جائے گی۔ اس مالی سال میں پاکستان سے آئی ٹی برآمدات کی متوقع رقم 4.5 سے 4.6 ارب امریکی ڈالر ہے۔
نیز، 2016 کے بعد یہ سب سے بڑی عالمی نیلامی کے ذریعے ملک میں 5G سروسز کے لیے لائسنس جاری کیے گئے، جن سے 509 ملین امریکی ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا۔ مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے فروری 2025 میں “انڈس اے آئی ویک” کا انعقاد کیا گیا، جس میں 30 شہروں میں تقریبات ہوئیں اور 100 سے زائد بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی، ساتھ ہی 88 پائلٹس تیار کیے گئے۔اس کے علاوہ، اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں اور صحت کے مراکز کو فائبر کنیکٹیویٹی فراہم کی گئی ہے، اور شہر میں فری انٹرنیٹ ہاٹ اسپاٹس کا منصوبہ آخری مراحل میں ہے۔ سیدپور ماڈل ولیج اور فاطمہ جناح پارک میں ای-لرننگ پوڈز بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔
اس اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جنہوں نے ملک میں آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لیے مختلف منصوبوں اور اقدامات کا جائزہ لیا۔