وزیراعظم کی صدارت میں اجلاس؛ قومی ٹیرف پالیسی سے صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کا فیصلہ

وزیراعظم کی صدارت میں اجلاس؛ قومی ٹیرف پالیسی سے صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کا فیصلہ

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ملک کے درآمدات، کسٹمز ڈیوٹی، اور تجارتی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اس اجلاس کا مقصد ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات کا جائزہ لینا تھا، جسے صنعت و تجارت کے حوالے سے اصلاحات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔اس موقع پر، نمائندہ کاروباری حضرات پر مشتمل ذیلی ورکنگ گروپ کے ارکان نے وزیراعظم کو ملک میں کسٹمز اور ٹیکس وصولی سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا اور اپنی سفارشات پیش کیں۔ ان سفارشات میں تجویز کیا گیا کہ موجودہ نظام کو بہتر بنا کر کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول کو سازگار بنایا جائے تاکہ صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔وزیراعظم نے ان سفارشات کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور کاروباری و سرمایہ کار حضرات کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ قومی ٹیرف پالیسی کو اس طرح نافذ کیا گیا ہے کہ یہ ملکی صنعتی پیداوار کے لیے معاون ثابت ہو، تاکہ برآمدات اور درآمدات کو ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔

اس اجلاس میں وفاقی وزراء برائے خزانہ محمد اورنگزیب، اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ، موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، پاور سردار اویس احمد لغاری، اقتصادی امور ڈیژن احد خان چیمہ، پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ اظہر بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، اور دیگر سرکاری عہدیدار اور صنعت و کاروباری نمائندگان نے بھی شرکت کی۔وزیراعظم نے اس موقع پر زور دیا کہ ملک میں صنعتی پیداوار اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کے لیے شعبہ جاتی مسائل اور تجاویز کی نشاندہی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو، پیداواری صلاحیت بہتر بنائی جائے، حکومتی تحفظ فراہم کیا جائے، اور انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا جائے۔

مزید برآں، وزیراعظم نے ہدایت دی کہ دوسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ اور راہداری (ٹرانزٹ) تجارتی مصنوعات کی بارڈر پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی پر کڑی نگرانی کی جائے تاکہ ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے امکانات کم ہوں اور تجارتی عمل میں شفافیت آئے۔ یہ اقدامات ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے اور تجارتی نظام کو موثر بنانے کے لیے اہم قرار دیے گئے ہیں۔