کوئٹہ: بلوچستان میں خواتین کی مختلف شعبوں میں بڑھتی ہوئی شرکت کے ساتھ شعبہ وکالت میں بھی خواتین کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
کوئٹہ کی عدالتوں میں اس وقت تقریباً 150 خواتین وکلا پریکٹس کر رہی ہیں، جبکہ ہر سال 20 سے 25 نئی خواتین وکلا عملی میدان میں قدم رکھ رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین زندگی کے مختلف شعبوں کے ساتھ ساتھ شعبہ قانون میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہی ہیں۔ خواتین وکلا کی بڑھتی ہوئی تعداد کو عدالتی نظام میں خواتین کی شرکت اور قانونی خدمات تک رسائی کے حوالے سے ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔شعبہ وکالت بلوچستان کی خواتین کے لیے باعزت اور بااختیار روزگار کے حصول کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ ہر سال نئی خواتین وکلا کی عملی میدان میں آمد سے عدالتوں میں خواتین کی موجودگی مزید بڑھ رہی ہے اور وہ انصاف کی فراہمی کے عمل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ایڈووکیٹ فرزانہ خلیجی کے مطابق خواتین سائلین اپنے مسائل اور قانونی معاملات خواتین وکلا کے سامنے زیادہ اعتماد کے ساتھ بیان کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین وکلا کی موجودگی خاص طور پر ان خواتین کے لیے اہم ہے جو اپنے مسائل کسی خاتون قانونی ماہر کے ساتھ زیادہ آسانی سے شیئر کرنا چاہتی ہیں۔
کوئٹہ کی عدالتوں میں پریکٹس کرنے والی خواتین وکلا بلوچستان کی طالبات کے لیے بھی ایک مثال بن رہی ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں طالبات کو قانون کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور مستقبل میں وکالت کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔دسمبر 2025 میں کوئٹہ میں منعقد ہونے والی خواتین وکلا کانفرنس میں بھی بلوچستان میں خواتین وکلا کے کردار، انصاف تک رسائی اور قانونی شعبے میں خواتین کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کی گئی تھی، جس میں 85 سے زائد خواتین وکلا نے شرکت کی تھی۔دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 تک بلوچستان بار کونسل کے تحت 750 خواتین وکلا کا اندراج موجود تھا، جو صوبے میں قانونی شعبے میں خواتین کی مجموعی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔یوں کوئٹہ کی عدالتوں میں خواتین وکلا کی بڑھتی ہوئی تعداد بلوچستان میں خواتین کی پیشہ ورانہ شرکت کے ایک اہم رجحان کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جبکہ نئی نسل کی خواتین کے لیے شعبہ قانون ایک ممکنہ پیشہ ورانہ راستے کے طور پر مزید نمایاں ہو رہا ہے۔