شیخ حسینہ واجد کو توہین عدالت پر 6 ماہ قید کی سزا، عدالت کا بڑا اقدام

شیخ حسینہ واجد کو توہین عدالت پر 6 ماہ قید کی سزا، عدالت کا بڑا اقدام

ویب ڈیسک: بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل نے سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے 6 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔

 یہ فیصلہ ایک لیک آڈیو کی بنیاد پر کیا گیا جس میں شیخ حسینہ کو یہ کہتے سنا گیا:"میرے خلاف 227 مقدمے ہیں، اب مجھے 227 لوگوں کو مارنے کا لائسنس مل گیا۔"عدالت نے اس بیان کو عدالتی وقار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت اقدام کیا، اور کہا کہ یہ الفاظ عدالتوں کے احترام اور آزادانہ فیصلے کے عمل میں مداخلت کے مترادف ہیں۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق، عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم چھاترا لیگ کے رہنما شکیل آکند کو بھی توہین عدالت کے جرم میں 2 ماہ قید کی سزا دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد پر انسانیت کے خلاف جرائم، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی جبر جیسے سنگین الزامات زیر سماعت ہیں، اور وہ گزشتہ برس اگست میں طلبہ تحریک کے بعد ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ بنگلادیشی عدالتوں نے انہیں مفرور قرار دے رکھا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ عوامی لیگ کے حلقے فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔