مودی کو جوتے کی زبان سمجھ آ گئی

 رفیع صحرائی

6 اور سات مئی کی درمیانی شب کو بھارت کی طرف سے بلااشتعال چھیڑی گئی جنگ چوتھے دن ہفتہ 10 مئی کو سہ پہر ساڑھے چار بجے بجے سیز فائر پر اختتام پذیر ہو گئی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سرِ پْرغرور مودی اتنی جلدی شکست مان لے گا۔ 
ٹیکنیکلی یہ بھارت کی شکست ہی مانی جائے گی۔ مودی نے پوری پلاننگ کے تحت پہلگام واقعہ سٹیج کروایا تھا۔ اس واقعہ کو سٹیج کرنے کا مقصد پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلگام واقعہ کے پانچ منٹ بعد ہی انڈیا نے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا تھا۔ بھارت پورے طور پر جنگ کے لیے تیار تھا۔ مودی کا خیال تھا کہ اقتصادی طور پر تباہ حال پاکستان چند گھنٹوں میں ہی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا۔ اسے پاکستان کے اس قدر شدید ردِعمل کی توقع ہی نہیں تھی۔ ہندوستان نے جنگ کا آغاز پاکستان کی سول آبادیوں پر میزائل حملوں سے کیا تھا۔ افواجِ پاکستان اور حکومتی قیادت نے تحمل کا مظاہرہ کیا مگر بھارت کی جانب سے اسے کمزوری سمجھا گیا اور پاکستان پر چڑھائی کے لیے اس نے 70 سے 80 طیارے فضا میں بلند کر دیئے۔ پاکستان کی طرف سے اس کا فوری جواب دیا گیا اور پاکستان نے بھی بھارتی جنگی طیاروں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے اپنے جنگی جہاز فضا میں بلند کر دیئے اور پھر اقوامِ عالم نے فضا میں وہ معجزہ رونما ہوتے دیکھا جس کی توقع صرف پاک فضائیہ ہی سے کی جا سکتی تھی۔ پاکستان نے اپنی سرزمین پر حملہ آور ہونے والے طیاروں میں سے پانچ کو مار گرایا جن میں سے تین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ فرانس کے تیار کردہ رافیل طیارے جدید ترین جنگی جہاز ہیں جن پر مودی کو سب سے زیادہ فخر تھا۔ یہ بات تھی بھی قابلِ فخر کہ فرانس نے ان طیاروں کو ناقابلِ شکست قرار دیا تھا۔ یہ بھارت کے لیے پہلا جھٹکا تھا لیکن گجرات کے قصائی مودی نے ہٹ دھرمی نہ چھوڑی۔ اس نے اگلے تین دن کے دوران نوے کے قریب ڈرونز طیارے پاکستان میں جاسوسی اور تباہی کے لیے بھیجے۔ بھارت کی توقع کے بالکل برعکس پاکستان نے اس کے ڈرونز راڈار پر ڈی ٹیکٹ کر لیے اور تمام ڈرونز ہی مار گرائے۔ 
اس دوران پاکستان کی طرف سے مسلسل تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ پاکستانی حکومت اور فوج پر اپنے عوام کی طرف سے شدید دباؤ تھا کہ انڈیا کو اس کی ناپاک جسارت کا مزا چکھایا جائے لیکن پاکستان کی حکومت اور فوج نے آخر تک جنگ سے بچنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس اثناء￿  میں بھارت کی طرف سے پاکستان میں گھس کر مارنے، اس کے شہروں اور فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کی بڑھکیں بھارتی میڈیا پر مسلسل جاری تھیں۔ ان چار دنوں میں بھارتی میڈیا جھوٹ بولنے کی فیکٹری کے طور پر سامنے آیا اور اس نے جنگی محاذ کو گرم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب بھارت کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے کہ اس نے پاکستان کی فوجی تنصیبات اور شہری آبادیوں کو میزائلوں کی زد پر رکھ لیا۔ یہ جسارت ناقابلِ برداشت تھی۔ اب بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دینا ضروری ہو گیا تھا۔ مودی کا غرور خاک میں ملانا فرض ہو گیا تھا۔ صبح ساڑھے چار بجے پاکستانی پائلٹس نے نمازِ فجر ادا کی، اپنے گھر والوں سے ممکنہ طور پر آخری بات چیت کی، ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کییاور مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے جنگی جنون میں مبتلا مکار اور خود سے عددی اور اسلحہ کی تعداد کے لحاظ سے کئی گنا بڑے دشمن پر ٹوٹ پڑنے کے لیے روانہ ہو گئے۔ ان شیروں نے ہندوستان کی زمین پر وہ قیامت برپا کی کہ ایسا بالی وڈ کی فلموں بھی نہیں ہوتا۔ ہندوستان کی فوجی چھاؤنیاں، فوجی تنصیبات اور روس کا تیار کردہ ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کا ایئر ڈیفنس سسٹم چند منٹ میں ہی تہس نہس کر دیا گیا۔ ان شیردل پائلٹس نے ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اللہ کے فضل سے بحفاظت فتح کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے وطن کو واپس لوٹے۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان نے دہلی سمیت متعدد بھارتی شہروں کی طرف ڈرونز بھی روانہ کر دیئے جنہیں انڈیا کا ریڈار سسٹم ڈیٹیکٹ نہ کر سکا اور ان ڈرونز نے بھارت کے شہروں پر اڑنا شروع کر دیا۔ پاکستان نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، اس نے سائبر اٹیکس کے ذریعے انڈیا کی متعدد اہم ویب سائٹس بھی ہیک کر لیں جن میں نریندرا مودی اور آر ایس ایس کی ویب سائٹس بھی شامل تھیں۔ سائبر اٹیکس ہی کی مدد سے پاکستان نے انڈیا کے 70 فیصد گریڈ اسٹیشنز کو جام کر کے بجلی کا نظام معطل کر دیا۔ انڈیا اس چومکھی لڑائی کی تاب نہ لا سکا۔ مودی جو کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا وہ اچانک ڈھے گیا۔ پاکستانی حملے سے پہلے تک امریکہ سمیت کوئی بھی مغربی ملک پاک بھارت لڑائی کو دو ملکوں کا آپس کا معاملہ کہہ کر مداخلت کرنے کو تیار نہ تھا۔ جب انڈیا کو شدید مار پڑی تو سب کی انسانیت جاگ اٹھی۔ 
یہ سیز فائر پاکستان کی بہت بڑی جیت کی صورت میں ہوا ہے۔ مودی نے چند روز قبل یک طرفہ طور پر فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اب وہ پاکستان کے ساتھ کسی نیوٹرل مقام پر تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہو چکا ہے جن میں یقینی طور پر مسئلہ کشمیر سرِفہرست ہو گا اور اس کے ساتھ بھارت کی پاکستان کی سرزمین پر مسلسل دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔
بہت زیادہ نقصان اٹھانے اور اپنے درجنوں فوجی مروانے کے بعد گھٹنے ٹیک کر مودی نے ثابت کر دیا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ مودی جو کوئی بات سننے پر آمادہ نہ تھا جوتوں کی زبان آسانی سے سمجھ گیا۔ مبارک ہو پاکستانیو!