زبان کی بقا میں قوم کی بقا

رباب گل

زبان کسی بھی قوم کی  شناخت ہوتی ہے۔یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیب، تمدن، تاریخ اور ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ یہی زبان قوموں کی ترقی اور زوال کی کہانی سناتی ہے اور ان کے شعور و ادراک کی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔ اردو زبان، جو اپنی لطافت، وسعت، مٹھاس اور جامعیت کی بدولت دنیا کی ممتاز ترین زبانوں میں شمار ہوتی ہے، بدقسمتی سے اپنے ہی دیس میں اجنبیت کا شکار ہو رہی ہے۔ 
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنی زبان سے منہ موڑا، وہ نہ صرف اپنی شناخت بلکہ اپنی ثقافتی جڑوں سے بھی کٹ گئی۔ 
تاریخ کے صفحات پر رقم ہے کہ ہسپانیہ کی مسلم تہذیب، جو اپنے دور میں دنیا کی عظیم ترین تہذیبوں میں سے ایک تھی، اس کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس کے باشندے اپنی زبان اور ثقافت سے دور ہونے لگے۔ یہی حال اندلس کے مسلمانوں کا ہوا، جنہوں نے اپنی زبان اور شناخت کو ترک کرکے غیر زبانوں اور تہذیبوں کے آگے سر تسلیم خم کیا۔ کیا ہم نے ان واقعات سے کچھ سبق حاصل کیا؟ بدقسمتی سے نہیں۔۔۔ آج ہم اپنی قومی زبان اردو کو اس کے اصل مقام سے محروم کر رہے ہیں، جو ہمارے زوال کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
اردو زبان کی ابتدا ایک عظیم تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے طور پر ہوئی۔ یہ زبان برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ اور ان کی جدوجہد کی گواہ ہے۔ اردو نے نہ صرف ہمارے جذبات اور احساسات کو زبان دی بلکہ ہماری دینی اور ملی شناخت کو بھی مضبوط کیا۔
 قیام پاکستان کے وقت اردو زبان محض ایک وسیلہ نہیں تھی بلکہ مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کی علامت تھی۔ یہی وہ زبان تھی جس نے قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور آزادی کی تحریک کو ایک نیا رخ دیا۔
اردو کی عظمت کو سمجھنے کے لیے اس کے ادبی سرمائے پر ایک نظر ڈالنا کافی ہے۔ یہ زبان میر، غالب، اقبال اور فیض جیسے نابغہ روزگار شعرا کی تخلیقات کی زبان ہے، جنہوں نے اردو کے ذریعے نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر کے ادبی افق پر اپنی چھاپ چھوڑی۔ میر تقی میر کے اشعار کی سادگی اور گہرائی، غالب کے فلسفیانہ خیالات، اقبال کے روح پرور اشعار اور فیض کی انقلابی شاعری نے اردو کو ایک عالمی زبان کا درجہ دیا۔ اقبال کے اشعار کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں کیا گیا اور مغرب نے ان کے فلسفے کو اپنا کر ترقی کی راہیں ہموار کیں۔ مگر ہم، جو اقبال کی زبان کے وارث ہیں، آج اپنی زبان کو پس پشت ڈال کر انگریزی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ انگریزی زبان سیکھنے یا اپنانے میں کوئی برائی نہیں۔ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے غیر زبانوں کو سیکھنا ضروری ہے مگر اپنی زبان کو نظرانداز کرنا بدترین ذہنی غلامی کی نشانی ہے۔ اردو ہماری شناخت ہے، ہماری تہذیب کی علامت ہے اور ہماری نسلوں کا سرمایہ ہے۔ اگر ہم نے اس کی قدر نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
آج ہمارے تعلیمی نظام میں اردو کو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا ضرور جاتا ہے مگر اسے وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اس کا حق ہے۔ والدین اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں داخل کراتے ہیں اور انہیں اردو بولنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، گویا اردو زبان کسی دقیانوسی دور کی یادگار ہو۔ میری نظر سے گزرا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اردو کے اساتذہ کو دوسرے مضامین کے مقابلے میں کم اہمیت دی جاتی ہے اور اردو ادب کے طلبہ کو معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی ترقی کی بنیاد اپنی زبان پر رکھی ہے؟ چین میں چینی، جاپان میں جاپانی، جرمنی میں جرمن اور فرانس میں فرانسیسی زبان نے ان ممالک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے بچے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اپنی تحقیق اسی زبان میں کرتے ہیں اور اسی زبان میں دنیا کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں۔ مگر ہم نے اپنی زبان کو ترقی کا ذریعہ بنانے کے بجائے، اسے ایک بوجھ سمجھ لیا ہے۔
اردو کی خوبصورتی اور وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ زبان دنیا کی کئی زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فارسی، عربی، ترکی اور انگریزی کے الفاظ نے اردو کو ایک جامع اور عالمی زبان بنا دیا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم اس زبان کی عظمت کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ تعلیمی نصاب میں اردو کو مرکزی حیثیت دی جائے، ادبی میلوں اور مباحثوں کا انعقاد کیا جائے اور اردو کے فروغ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔ والدین اور اساتذہ کو یہ شعور دینا ہوگا کہ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری قومی اور ثقافتی پہچان ہے۔
یاد رکھیں۔۔۔ زبان کا زوال قوم کے زوال کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی زبان کی اہمیت کو نہ سمجھا تو ہم اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔ اردو ہماری روح ہے اور جب تک یہ زبان زندہ ہے، ہم بھی زندہ رہیں گے۔
اردو بولیے۔۔۔ اردو کو فروغ دیجیے