عوام کو سمجھ آنے دیں

 ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی
جس طرح ایران امریکہ جنگ میں کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ہو کیا رہا ہے اور کون کیا کر رہا ہے؟ اسی طرح پاکستانی معاشی صورتحال میں کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ جرم کس کے سر جائے گا،جس طرح وہاں لڑائی امریکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے مگر تباہی بحرین، کویت، یو اے ای اور قطر میں ہے اسی طرح پاکستان میں قرض اشرافیہ لیتی ہے اور اس کا سارا بوجھ عوام پر آتا ہے۔اصل ذمہ داران بچ نکلتے ہیں یا یوں کہئے انہیں تو پتا بھی نہیں چلتا کہ کیا ہوا ہے مگر عوام کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں، ان کی زندگیاں عذاب بن جاتی ہیں، ان کیلئے تو سانس تک لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
بجٹ 2026 کی آمد آمد ہے اور ایک بار پھر عوام سے قربانی لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے آئی ایم ایف کی جانب سے نئے ٹیکس اہداف مقرر کر دیے گئے ہیں جس کے مطابق پاکستان کو 15264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا ہے۔ اب یہ بات قابل غور ہے جہاں انڈسٹری بند ہو،عوام سے وصول کردہ سیلز ٹیکس چوری ہو جاتا ہو،کاروباری حالات تباہی سے دوچار ہوں، ایکسپورٹ رک چکی ہوں، ملک کا سارا دارومدار امپورٹ پر ہو اور وہاں بھی انڈر انوایسنگ اور کسٹم نظام میں رشوت خوری عام ہو تو پھر یہ اہداف کیسے حاصل ہوں گے؟ حالات کی زبوں حالی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں دنیا میں انتہائی غربت کی شرح 10 فیصد جب کہ پاکستان کے اندر 16.5 فیصد ہے، اب آئی ایم ایف کی طرف سے مطالبہ کو پورا کرنے کیلئے آسان اہداف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔الیکٹرک گاڑیاں جو فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے دوچار پاکستان جیسے ملک کی انتہائی ضرورت ہیں جہاں ایندھن کا استعمال معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، وہاں ان گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 1  فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔سولر پر ٹیکس کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے ایسے حالات میں جب پہلے ہی پیٹرولیم لیوی تقریبا دو سو فیصد کے قریب ہے ٹیکس نظام میں اصلاح کیے بغیر نرم اہداف کو نشانہ بنانا سمجھ سے بالاتر ہے، اسی طرح یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بجلی کے ریٹس بڑھا دیے جائیں جو غریب عوام کے قتل کے مترادف ہے، کیوں کہ کم یونٹس استعمال کرنے والے زیادہ تر افراد دیہاڑی دار مزدور ہی ہیں۔سولر پر ٹیکس کا فیصلہ تو تقریبا ہو چکا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اشرافیہ کی ملکیت اور آشیرباد سے چلنے والے آئی پی پیز کو زندہ رکھنا اور ان کے معاہدوں کو ری شیڈیول کرکے گردشی قرضوں کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے یہ سب بہت ضروری ہے۔ اگر لوگ اسی طرح سے سولر لگا کر مہنگی بجلی سے چھٹکارہ حاصل کرگئے تو پھر ان کی زندگیوں کا ایک بڑا بوجھ اتر جائے گا اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر ذہنی آسودگی ان کے دماغ کے بند دریچے کھول دے گی اور یہی آزادانہ سوچ اس نظام کی موت ہے۔ایسا نہیں ہے کہ وہ یہ چاہتے ہوں لوگ اس نظام کے خلاف نہ بولیں چپ کر جائیں اور اپنی گردنیں اس کے آگے جھکا دیں،نہیں وہ ایسا نہیں چاہتے بلکہ ان کی مرضی ہے کہ لوگ اس نظام کے ظلم کے خلاف اس طرح سے بات کریں کہ ان کا غصہ بھی نکل جائے اور یہ ظالمانہ نظام بھی بچ جائے۔
 ہمیں عالمی استعمار کے ان ہتھکنڈوں پر بڑی گہری نظر رکھنی ہے کیونکہ اس نظام کی دبیز تہوں کو کھولنے کیلئے بڑی جستجو کرنی ہے،یہ جذباتیت جلد بازی اور افراتفری میں ہونے والا کام نہیں ہے اور نہ کسی ایک ملک یا ایک خطہ کے لوگوں کے بس کی بات ہے لیکن اس سب میں یہ تو ممکن ہے ایک مثبت تعمیری اور ترقی پسند جدوجہد کے ساتھ لوگوں کی زندگیاں آسان بنا دی جائیں مگر افسوس پاکستان میں ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں صرف اور صرف اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے تحت کام کام کر رہی ہیں، معیشت کا میدان قرضوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، تجارت صنعت اور زراعت کی نمو ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے جس بدولت ملک کی انڈسٹری جسے اپنی کھپت کے اعتبار سے اس وقت 22 ہزار میگاواٹ بجلی استعمال کرنا تھی وہ صرف تین سے چار ہزار میگاواٹ استعمال کر رہی ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد زراعت چونکہ صوبوں کے کنٹرول میں ہے تو اس وجہ سے فصلوں کی پیداوار اوران کی کھپت کے حوالہ سے قومی پالیسی کا فقدان ہے، گندم جو پیداوار اور خوراک کے اعتبار سے ملک کی سب سے بڑی فصل ہے اس وقت وہ مڈل مین کے رحم و کرم پر ہے، سستی خریدی گئی گندم چند دنوں کے بعد ہی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔افغان بارڈر کی بندش افغانستان اور وسط ایشیا کے ساتھ تجارت کو متاثر کر رہی ہے۔پیاز اور آلو کی فصل کسان کو فائدہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ کارخانوں کے مزدور اور کسان بے روزگار ہو رہے ہیں۔یہ سب ہماری معاشی پالیسی کی ناکامی ہے جس کا حل حکومت کے پاس قرض لیکر نظام چلانا ہے جس کیلئے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور مقامی بنکوں کو بھاری شرح سود مجبوری ہیں جس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور اس کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔
 اب اس کا حل کیا ہے؟ اس عفریت سے نجات کیسے ممکن ہے؟ بظاہر یہ ایک مشکل عمل ہے لیکن حقیقت میں اتنا مشکل نہیں جتنا بنا لیا گیا ہے ہماری حکومت سے اپیل ہے اگر وہ واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو جتنا زور آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کیلئے لگایا جا رہا ہے اتنا ہی ہم اپنے نظام کی اصلاح پر لگا دیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔سب سے پہلے ہمیں توانائی کا مسئلہ حل کرنا ہے جب تک سستی بجلی مہیا نہیں کی جاتی اس وقت تک صنعت اور زراعت کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ دوسرا ہمیں میڈ ان پاکستان کی طرف آنا ہے ہر وہ چیز جو مقامی سطح پر تیار ہو سکتی ہے اس کی درآمد کو ختم یا کم سے کم کرنا ہوگا۔تیسرا پرتعیش اشیاء￿  کی درآمدات پر پابندی عائد کرنا ہوگی ویسے یہ بھی حیران کن عمل ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وہی آئی ایم ایف جو پاکستان کی ٹیکس کولیکشن بڑھانے پر زور دیتی ہے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات کرتی ہے تاکہ اسے یقین رہے کہ اس کا قرضہ ڈوبے گا نہیں، وہی آئی ایم ایف لگڑری گاڑیوں اور پرتعیش اشیاء￿  کی درآمدات پر عائد پابندی ختم کرنے کی بات کرتی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے انہیں ہمارے اخراجات سے کوئی سروکار نہیں وہ صرف اپنے قرضوں بارے فکر مند ہیں۔چوتھی چیز ہمیں اپنی انڈسٹری کی بحالی جانب غور کرنا ہوگا کیونکہ اس سے بجلی کی کھپت بڑھے گی اور کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں جو بوجھ ہر روز عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے اس میں کمی آئے گی اسی طرح درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا،اسی طرح ہمیں اپنے کسان کو ریلیف دینا ہوگا،اس کی لاگت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے،اس کیلئے اسے سستی کھاد بیج ادویات اور زرعی میشنری مہیا کرنا ہوگی، ہمارا زیادہ تر کسان چھوٹا زمیندار ہے حکومت اس پر بھی ٹیکس کا بوجھ ڈالنا چاہتی ہے جو سرا سر زیادتی کے مترادف ہے، وہ تو پہلے ہی مہنگی بجلی تیل کھاد اور بیج خرید رہا ہے، ان پر بے شمار ٹیکس دے رہا ہے، اب اس پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالنا ظلم نہیں تو اور کیا ہوگا۔
معاشی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوان کو ہنر مند بنانے کی کوشش کریں، مصنوعی ذہانت،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکنیکل کورسز کے ساتھ نہ صرف ان کی صلاحیتوں نکھاریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر ان کی ملازمتوں کو یقینی بناتے ہوئے نہ صرف انہیں روزگار مہیا کریں بلکہ اس عمل سے پوری دنیا میں اپنا تشخص بھی بہتر بنائیں،مگر یہ سب کام ایک دن میں ہونے والے نہیں ہیں اس کیلئے لمبی منصوبہ بندی اور کام کی ضرورت ہے لیکن اگر ہمارا رویہ یہی رہا ہم قرضوں کے ذریعے وقت گزاری کرتے رہے تو پھر مسائل بڑھتے چلے جائیں گے لوگوں میں مایوسی بڑھے گی،احتجاجی تحریکیں،جلاؤ گھراؤ اور انتشار میں اضافہ ہوگا جس سے کبھی تعمیر اور ترقی ممکن نہیں ہے،لیکن شائد حکمران اشرافیہ ابھی حالات پر غور کرنے کیلئے تیار نہیں ان کے اہداف آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کی خوشنودی تک محدود ہیں، انہیں عوام کے فاقوں خودکشیوں اور افراتفری سے غرض نہیں ہے، جس سے دشمن فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس لیے ہم جس قدر جلدی معرکہ حق سے معرکہ تعمیر وطن کی طرف آ جائیں گے اسی قدر ہمیں فائدہ ہوگا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد