سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
مارگریٹاسمونیان کاحسدایک ذاتی تاثرنہیں بلکہ ریاستی کمزوری کاعلامتی اظہاراوراعترافِ شکست ہے۔وینزویلامیں دہائیوں پرمحیط روسی سرمایہ کاری،جوکبھی اس کے عالمی اثرو رسوخ کی علامت تھی،اب ایک شکستہ خواب بن چکی ہے اوریوکرین جنگ کے باعث کمزوراورپس منظرمیں چلی گئی ہے۔مادوروکی گرفتاری نے اس زوال کوباضابطہ شکل دے دی جسے ماسکوحقیقت پسندی سے قبول کررہاہے۔ہانانوٹے کے مطابق روس اس وقت ٹرمپ کوناراض کرنے کامتحمل نہیں ہوسکتااورنہ ہی ٹرمپ کوبراہِ راست چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ٹرمپ کوناراض نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس کی توجہ بڑے مسئلییوکرین پرمرکوزہے۔یوکرین کے مسئلے پر امریکی رویہ روس کیلئے فیصلہ کن حیثیت رکھتاہے۔جہاں امریکی غیرجانبداری یانرم رویہ یوکرین کے محاذپرروس کیلئے قیمتی اثاثہ ہے۔
ماسکوکی اولین ترجیح یہ رہی ہے کہ ٹرمپ کویوکرین پریاتواپناہم نوابنایاجائے یاامریکاکم ازکم یوکرین کے معاملے میں روس مخالف اتحادکاقائدنہ بنے۔اوراسے روس مخالف اتحادسے
الگ رکھاجائے ،اب تک یہ حکمت عملی بڑی حد تک کامیاب رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ روسی پرچم برداربحری جہازماریناراپرقبضے پرروس نے عسکری جواب نہیں دیاتاہم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اعتراض کیا۔یہ رویہ روسی خارجہ پالیسی میں قانونی بیانیے کی واپسی کی علامت ہے۔اگرچہ روسی بحری اثاثے علاقے میں موجود تھے،مگرطاقت کے استعمال سے اجتناب اورگریزکیاگیاجوکشیدگی کومحدودرکھنے کی حکمت عملی کاحصہ ہے۔
لوکیانوف کے نزدیک وینزویلاجیسے معاملات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔اصل مسئلہ یوکرین ہے،جوروس کیلئے جغرافیائی ہی نہیں بلکہ تاریخی اورتہذیبی اہمیت بھی رکھتاہے۔ لوکیا نوف کے مطابق،وینزویلاسیاسی طورپراہم ضرورہے،مگریوکرین روس کیلئے تاریخی، تہذیبی اوراسٹریٹیجک مسئلہ ہے جہاں سمجھوتے کی گنجائش کم ہے۔سخت گیرقوم پرست آوازوں نے فوجی ردِعمل کامطالبہ کیا،مگرکریملن نے انہیں پالیسی کی سطح پرقبول نہیں کیا۔یہ ریاست اورجذبات کے فرق کوواضح کرتاہے۔روس کانیاعبوری انتظامیہ کوقبول کرنااس حقیقت کوظاہرکرتاہے کہ ماسکواس وقت نظریاتی بحث سے زیادہ استحکام کاخواہاں ہے۔روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے نئی عبوری حکومت کاخیرمقدم اس بات کی علامت ہے کہ ماسکو اس مرحلے پراستحکام کوترجیح دیتاہے،خواہ وہ بیرونی دباؤکے نتیجے میں ہی کیوں نہ حاصل ہو۔روسی وزارتِ خارجہ نے نئی عبوری حکومت کاخیرمقدم کرکے یہ پیغام بھی دیاکہ استحکام ، چاہے دباؤمیں ہو،انتشارسے بہترہے۔
ماریناراجہازپرقبضے پرروس کاردعمل محتاط رہانہ دھمکی،نہ للکار،صرف سمندری قانون کی یاددہانی پراپنامقف بیان کیا۔ ماسکونے عسکری کی بجائے قانونی زبان اختیارکی۔ردعمل محتاط اورقانونی دائرے میں رہا،جس سے ظاہرہوتاہے کہ روس تصادم کے بجائے قانونی مؤقف کوترجیح دے رہاہے۔ اگرچہ عسکری جواب ممکن تھا،مگرروس نے نہ ٹینکرکی واپسی کامطالبہ کیااورنہ کسی جوابی کارروائی کاعندیہ دیا،حالانکہ علاقے میں اس کی بحری موجودگی موجودتھی مگراس نے طاقت کے استعمال سے گریزکیااورتحمل کوترجیح دی،جوسفارتی پختگی کی علامت ہے۔ٹرمپ کی ضدنے یورپی اتحاد کی کمزوری کونمایاں کیا،ایک ایسی کمزوری جس سے روس سفارتی سطح پرفائدہ اٹھا سکتاہے۔
قطب شمالی روس کیلئے توانائی،عسکری موجودگی اورعالمی قیادت تینوں حوالوں سے فیصلہ کن خطہ ہے۔گرین لینڈپرامریکی نظریں ہوں یاڈنمارک کی ملکیت،روس نے اسے فی الحال گرین لینڈ کے معاملے کوامریکاڈنمارک کادوطرفہ مسئلہ قراردے کرخودکوبراہِ راست تنازع اورتصادم سے دوررکھاہے۔گرین لینڈپرروس کامحتاط مؤقف دراصل براہِ راست تصادم سے بچنے کی کوشش ہے۔سخت گیرآوازیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں،مگرریاستی پالیسی جذبات نہیں،مفادات سے تشکیل پاتی ہے۔سخت گیرحلقوں نے اس ضبط کو کمزوری قراردیا۔الیکسی ژوراولیوف کے بیانات جذبات کی ترجمانی توکرتے ہیں،مگرریاستی حکمت عملی کابدل نہیں۔الیکسی ژور اولیوف جیسے سیاستدانوں کے بیانات عوامی جذبات کی عکاسی توکرتے ہیں،مگرریاستی پالیسی ان جذبات سے بلندہوکر تشکیل پاتی ہے۔اس موقع پرروسی حکام کے طنزیہ بیانات سخت ردِعمل کے بغیرپیغام پہنچانے کامثرذریعہ بنے۔یہ جدیدسفارت کاری کاایک نرم مگرومؤثرحربہ ہے۔
قوم پرست جماعتوں نے اس اقدام کوبحری قذاقی اوراعلانِ جنگ کے مترادف قراردیا،مگرکریملن نے اس بیانیے کوسرکاری سطح پر ان جنگی الفاظ کوقبول کرنے سے گریزکیا۔ قوم پرست بیانات کوسرکاری سطح پرقبول نہ کرنااس بات کاثبوت ہے کہ کریملن جنگی بیانیے سے فی الحال دوررہناچاہتاہے۔روس اس اصول کواصولی طورپرمانتاہے،مگرصرف وہاں تک جہاں وہ اس کے اسٹریٹیجک مفادات سے متصادم نہ ہو۔
ٹرمپ کی ضدپرروس نوازحلقوں کی مسکراہٹ دراصل یورپی کمزوری پرطنزہے۔ٹرمپ کی گرین لینڈپرضدروس نوازحلقوں میں خوشی کاباعث بنی،کیونکہ اسے یورپی کمزوری اورمغربی اتحادمیں دراڑکی علامت سمجھاگیا۔ٹرمپ کی ضدکوروس نوازحلقے یورپی اتحادکی کمزوری کی علامت کے طورپردیکھتے ہیں۔اگرامریکاگرین لینڈمیں مستقل عسکری ڈھانچہ قائم کرتا ہے توروسی خاموشی برقرارنہیں رہے گی۔کیریل دمترییف کاطنزیہ تبصرہ جدیدسفارت کاری کی ایک نرم مگرگہری ضرب ہے جویورپی یونین کے دوہرے معیارکاآئینہ اور سفارتی وارتھا،جوبغیرگولی چلائے اثرچھوڑگیا ۔ روس میں تعطیلات کے اختتام پرصدرپوتن کی جانب سے ایک جامع مقف متوقع ہے، جواس خاموشی کوباضابطہ حکمتِ عملی میں ڈھال سکتاہے۔
روس طاقت کے اصول کومانتاہے،مگرصرف وہاں تک جہاں وہ اس کے مفادسے ہم آہنگ ہو۔جس کی طاقت،اسی کااختیارکااصول روسی سوچ سے ہم آہنگ ضرورہے،یہ فلسفہ روس کومرغوب توہے،مگراگریہی اصول روسی مفادات سے ٹکرائے تووہ قابلِ قبول نہیں رہتا۔خصوصاگرین لینڈکے تناظرمیں امریکی موجودگی اس کے مفادسے متصادم ہوسکتی ہے۔ روس قلیل المدت تنازعات پر ردِعمل کم کررہاہے،طویل المدت اسٹریجک اہداف کوفوقیت دی جارہی ہے اورخاموشی ایک فعال پالیسی بن چکی ہے۔قطب شمالی روس کیلئے عسکری، معاشی اورعلامتی اہمیت رکھتاہے۔پوتن اسے روسی عالمی قیادت کے استحکام کاستون قراردے چکے ہیں۔قطب شمالی روس کیلئے محض جغرافیہ نہیں،مستقبل کی قیادت کاستون ہے۔
قطب شمالی روس کیلئے آنے والی دہائیوں کی معاشی اورعسکری سیاست کامرکزہے اورمستقبل کی جنگ کاپیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔یہ طرزِعمل عالمی نظام کوایک نئے توازن کی طرف
لے جارہاہے جہاں طاقت،خاموشی اورموقع پرستی ایک دوسرے میں مدغم ہوچکے ہیں۔
ہانانوٹے کے مطابق یورپ اورامریکاکے بیچ خلیج روس کیلئے فائدہ مندہے،مگرامریکی عسکری کی موجودگی کی توسیع ناقابلِ قبول ہے۔ہانانوٹے کے مطابق امریکااوریورپ کے درمیان خلیج روس کیلئے فائدہ مندہے،مگراگرامریکاگرین لینڈمیں عسکری ڈھانچہ مضبوط کرتاہے تویہ روس کیلئے خطرے کی گھنٹی ہوگی اورروس کی خاموشی برقرارنہیں رہے گی۔درمیانی طاقتوں کیلئے یہ ایک واضح سبق ہے کہ ہرجارحیت کاجواب فوری مزاحمت نہیں،بعض اوقات انتظارزیادہ سودمندہوتاہے۔
تعطیلات کے اختتام پرپوتن کی تقریرکاانتظارہے،پوتن کی جانب سے کسی جامع بیان اورشایدسب سے گہری تقریرکی توقع ہے،مگر فی الحال خاموشی ہی روس کاسب سے مؤثربیانیہ اور بلیغ سفارت کاری ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات خاموشی،سب سے بلندآوازہوتی ہے۔ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اعلان میں ہے،پوتن کی حکمتِ عملی انتظارمیں ۔اور موجودہ عالمی سیاست میں،خاموشی اب کمزوری نہیں بلکہ ایک مکمل پالیسی ہے۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی،شورمیں لپٹی ہوئی ہے،اورپوتن کی حکمت عملی سکوت میں۔تاریخ اکثرگواہی دیتی ہے کہ بعض اوقات خاموشی،توپ کے گولے سے زیادہ بھاری ہوتی ہے اوریہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاست،تاریخ بننے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ٹرمپ کی خارجہ پالیسی شورمیں لپٹی ہے،پوتن کی حکمتِ عملی سکوت میں۔ایک طاقت کو شورمیں ڈھونڈتاہے،دوسرا سکوت میں،اورتاریخ نہ صرف اکثراسی سکوت کویادرکھتی ہے بلکہ تاریخ اکثرفیصلہ اسی سکوت کے حق میں دیتی ہے کیونکہ بعض اوقات خاموشی،سب سے بڑی للکارہوتی ہے۔یہ باب اس نتیجے پرپہنچتاہے کہ روسی خاموشی وقتی مجبوری نہیں بلکہ ایک منظم اسٹریٹیجک انتخاب ہے جوعالمی طاقت کی سیاست میں ایک نئے باب کاآغازکررہی ہے۔