سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
بین الاقوامی سیاست کے موجودہ مرحلے پرطاقت کااستعمال صرف عسکری یامعاشی دباتک محدودنہیں رہا،بلکہ خاموشی،تاخیراور ردِعمل سے اجتناب بھی پالیسی کے مثرہتھیاربن چکے ہیں۔عالمی سیاست ہمیشہ محض بیانات،معاہدات یاجنگی محاذوں کاکھیل نہیں رہی؛یہ خاموشیوں،توقفات اورنظرنہ آنے والے فیصلوں کی تاریخ بھی ہے۔2026کے آغازمیں یہی خاموشی ایک بارپھرعالمی طاقتوں کے بیچ سب سے بلندآوازبن کرابھری ہے۔جوامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ حکمتِ عملی اورروسی صدرپوتن کی غیر معمولی خاموشی اسی بدلتے ہوئے عالمی سیاسی مزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ پالیسی اورپوتن کی غیر معمولی خاموشی،بظاہرتضادمعلوم ہوتی ہے،مگردرحقیقت یہ اسی نئی عالمی سیاست کی علامت ہے جس میں طاقت کااظہاراورضبط، دونوں یکساں ہتھیاربن چکے ہیں۔یہ باب اسی خاموشی کوبطورپالیسی سمجھنے کی کوشش ہے۔
عالمی سیاست میں طاقت کااظہارہمیشہ ردِعمل کوجنم دیتاآیاہے۔تسیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امریکی طاقت نے جارحانہ انداز میں اپنے پنجے پھیلائے،ماسکوکی جانب سے جواب تلوارکی جھنکاربن کرابھرا۔ماضی میں امریکی طاقت کے جارحانہ مظاہرے ماسکوکی فوری اورسخت مزاحمت کوجنم دیتے تھے۔امریکی طاقت کے جارحانہ مظاہرے خواہ مشرقِ وسطی ہویا لاطینی امریکاماسکوکی جانب سے فوری اورشدیدردِعمل کاسبب بنتے رہے۔سردجنگ کے دورسے لے کرعراق اورشام تک،روس نے ہمیشہ بیانیے اورسفارت دونوں محاذوں پرجواب دیامگر2026کے اوائل میں عالمی منظرنامہ ایک عجیب سکوت کی چادراوڑھے دکھائی دیتاہے۔ وینزویلامیں حکومت کی تبدیلی،ایک روسی پرچم بردارتیل بردار جہاز پرقبضہ،اورگرین لینڈسے متعلق جارحانہ بیانات۔یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ امریکااب عالمی نظام کوقانونی اصولوں کے بجائے طاقت کے توازن کی بنیادپر ترتیب دیناچاہتاہے۔
مگرٹرمپ کے غیرمعمولی اقدامات کے باوجودروسی خاموشی ایک نئے سیاسی مزاج کی نشان دہی کرتی ہے،جوجذبات کی بجائے مفادات کومرکزِنگاہ بناتاہے۔ٹرمپ کی یلغار، وینزویلامیں گرفتاری کاجشن،روسی پرچم بردارجہازپرقبضہ،اورگرین لینڈپرقبضے کی للکارسب کچھ ہوا،مگرکریملن کی زبان خاموش رہی،جیسے وقت نے خودکوتھام لیاہو۔ان تمام واقعات پرمکمل روسی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ماسکو اب ردعمل کی سیاست سے نکل کرمفادکی سیاست میں داخل ہوچکاہے۔
ماضی کے برعکس،ماسکونے نہ فوری مذمت کی اورنہ عسکری دھمکی دی۔یہ خاموشی کسی کمزوری کااظہارنہیں بلکہ ایک سوچا سمجھاپالیسی فیصلہ ہے،جس کامقصدبڑے اسٹریٹیجک اہداف کووقتی جذبات پرقربان نہ کرناہے۔روس،جوبرسوں مغربی مداخلت کو حکومتوں کی تبدیلی کی سازشکہہ کرردکرتارہا،آج خودضبط وتحمل اوربرداشت کاپیکربنادکھائی دیتاہے۔پوتن کی خاموشی محض اتفاق نہیں،بلکہ ایک سوچاسمجھاتوقف ہے۔پوتن کی عوامی منظرنامے سے غیرموجودگی اورکسی باضابطہ بیان سے اجتناب اس بات کااشارہ ہے کہ کریملن اب بیانات کے بجائے پسِ پردہ حکمت عملی پریقین رکھتاہے۔پوتن کی جانب سے عوامی منظرنامے سے وقتی غیبت،سیاسی بے خبری نہیں بلکہ دانستہ حکمت عملی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ پوتن کی خاموشی اکثربڑے فیصلوں کاپیش خیمہ بنتی ہے۔ آرتھو ڈوکس کرسمس کی تقریب کے بعدان کامنظرسے اوجھل رہنادراصل اس امر کی علامت ہے کہ فیصلہ بیانات میں نہیں،سفارتی کمروں میں ہورہاہے۔
پوتن کی عوامی منظرنامے سے عارضی غیرحاضری روسی طرزِقیادت کی ایک مستقل علامت رہی ہے۔تاریخی طورپر،پوتن کی خاموشی اکثربڑے فیصلوں،طویل المدت حکمت عملی اور سفارتی موڑسے پہلے دیکھی گئی ہے۔ترجمانِ کریملن دمتری پیسکوف اور سرکاری نشریاتی اداروں کی خاموشی محض تعطیلاتی سستی نہیں بلکہ ایک شعوری سفارتی حکمت ہے۔یوکرین پرواشنگٹن سے جاری مذاکرات وجودی نوعیت اختیارکرکے ایسے نازک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں ایک سخت جملہ بھی کئی مہینوں کی محنت ضائع کرسکتاہے۔
ترجمانِ کریملن دمتری پیسکوف کی خاموشی اورسرکاری ٹیلی ویژن کی تعطیلاتی خاموشی دراصل اس نازک مکالمے کی محافظ ہے جوواشنگٹن اورماسکوکے درمیان یوکرین پرجاری ہے۔ روس اس لمحے کسی ایسی چنگاری سے گریزاں ہے جوسفارتی دھاگے کوجلا دے۔اس مرحلے پرکسی بھی امریکی اقدام پرسخت ردعمل،اس مکالمے کوسبوتاژکرسکتاتھا۔کریملن کی خاموشی دراصل اسی نازک توازن کوبرقراررکھنے کی کوشش ہے
ٹرمپ نے2026کاآغازطاقت کے ایسے اعلان سے کیاجوبیسویں صدی کی سامراجی نفسیات کی بازگشت معلوم ہوتاہے۔نکولس مادورو کی گرفتاری اورنیویارک منتقلی محض ایک قانونی کارروائی نہیں،دراصل یہ پیغام تھاکہ امریکااب سفارت نہیں، گرفت کوترجیح دے رہاہے بلکہ عالمی سیاست میں طاقت کے نئے اصول کااعلان تھا۔ٹرمپ نے نئے سال کاآغازطاقت کے بے باک اعلان سے کیا۔نکولس مادوروکی گرفتاری اورنیویارک منتقلی،گویامونروڈاکٹرائن کی نئی تفسیرتھی کہ طاقت ہی قانون ہے۔
ٹرمپ نے واضح کردیاکہ اب بین الاقوامی قانون کی تعبیرطاقت کے ہاتھ میں ہیوہی تصورجسے کبھی روس مغربی سامراجیت کہہ کرردکرتاتھا۔روسی خارجہ پالیسی میں یوکرین محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ روسی خارجہ پالیسی کی مرکزی ترجیح بن چکی ہے۔قومی سلامتی،تاریخی شناخت،اورسابق سوویت دائر اثرکابنیادی ستون ہے۔ماسکواس مسئلے پرکسی بھی قیمت پرامریکی مخالفت کوبڑھانانہیں چاہتا۔
روسی سرکاری میڈیامیں ابھرتاہوابیانیہ اس امرکی عکاسی کرتاہے کہ ماسکواس امریکی جارحیت کواپنے لیے سفارتی نظیرکے طور پردیکھ رہاہے۔ان کے مطابق اگرامریکااپنے خطے میں طاقت کابے محابااستعمال کرتاہے،اپنے خطے میں جبرسے بالادستی قائم کرتا ہے توروس کوبھی اپنے ہمسایہ علاقوں میں اسی منطق کوبروئے کارلانے کااخلاقی وسیاسی جوازمل جاتاہے اور روس کوبھی اپنے دائر اثرمیں یہی حق حاصل ہوجاتاہے۔۔تاہم پوٹن کی خاموشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ یوکرین سے متعلق مذاکرات ایک نازک مرحلے میں ہیں۔اس تناظر میں، وینزویلایابحری واقعات پرسخت ردِعمل ان مذاکرات کوسبوتاژکرسکتاتھاجس سے روس کوبراہِ راست نقصان پہنچتا۔ان اقدامات کوامریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کاعملی اظہار قرار دیاگیا،جس میں عالمی طاقتوں کے مابین اثرورسوخ کی حدبندی کوتسلیم کیاگیاہیایک ایسانظریہ جسے روس برسوں سے پیش کرتاآرہاتھا۔
امریکی قومی سلامتی حکمت عملی اورروسی تائیدکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکی قومی سلامتی کی نئی دستاویز،جو خطوں میں اثرورسوخ کوتسلیم کرتی ہے،روس کے دیرینہ مقف سے ہم آہنگ ہے۔یہی وجہ ہے کہ روس نے اس پرتنقید کی بجائے خاموش تائیداختیارکی۔
دوسری طرف ٹرمپ ڈاکٹرائن نے نکولس مادوروکی گرفتاری سے یہ پیغام دیاہے کہ بین الاقوامی نظام میں حق،طاقت سے مشروط ہے۔اس عمل کوامریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کاعملی مظہرکہاگیاوہی حکمت عملی جسے روسی حکام نے خطوں کی سیاست کی بحالی کے سبب سراہاتھااوریہ اصول روسی سوچ سے متصادم نہیں،مگراس کے اطلاق کااختیارروس اپنے مفادات کے تابع رکھناچاہتاہے۔
فیودورلوکیانوف کے مطابق ٹرمپ ڈاکٹرائن نے واضح کردیاہے کہ عالمی سیاست کودوبارہخطوں کی سیاستکی طرف موڑدیاگیا ہے اورعالمی سیاست ایک بارپھرخطوں کے گردمنظم ہو رہی ہے۔یہ بیان اس حقیقت کوآشکارکرتاہے کہ سردجنگ کے بعدقائم ہونے والالبرل عالمی نظام اب تحلیل کے مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔یہ بیان محض تجزیہ نہیں بلکہ آنے والے عالمی تصادم کی پیش گوئی ہے۔روسی سرکاری میڈیامیں اس امریکی اقدام کوایکنظیرکے طورپرپیش کیاگیاہے،ایک ایسی نظیرجوروس کومستقبل میں اپنے خطے میں زیادہ سخت اقدامات کااخلاقی جوازفراہم کرسکتی ہے۔
یوگینی پوپوف جیسے تجزیہ کاروں کے نزدیک عالمی انتشارروس کیلئے دباؤکم کرنے اورسفارتی گنجائش بڑھانے کاموقع فراہم کر رہاہے۔طاقتوروں کی باہمی کشمکش میں درمیانی طاقتیں ہمیشہ نئے راستے تلاش کرتی ہیں۔بادی النظرمیں امریکی قومی سلامتی کی نئی دستاویزاورحکمت عملی،جوخطوں میں اثرورسوخ کوتسلیم کرتی ہے،روسی مقف سے جزوی مطابقت اورہم آہنگی رکھتی ہے ۔ یہی ہم آہنگی روسی خاموشی کی ایک بڑی وجہ ہے۔یوگینی پوپوف نے اس صورتِ حال کووقتی طورپرناخوشگوارمگرطویل المدت طورپرسودمندقراردیاہے۔یہ وقتی ناخوشگواری طویل المدت فائدے میں ڈھل سکتی ہے۔ان کے نزدیک عالمی انتشارروس کیلئے سفارتی دباکم کرنے اورنئے مواقع تلاش کرنے کاموقع فراہم کررہاہے اوریہ عالمی انتشارروس کیلئے سانس لینے کی گنجائش پیداکررہاہے۔
بعض روس نوازحلقے امریکی مداخلت پرناپسندیدگی کے باوجود نیم دلانہ تحسین کے ساتھ اس کی افادیت تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔دراصل یہ سوچ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ روس خودیوکرین میں اسی تصورِطاقت کااسیرہوچکاہے کیونکہ یہی طرزِعمل روس یوکرین میں اپناناچاہتاتھایوکرین میں روسی کارروائی بھی اسی تصورِطاقت پرمبنی تھی فرق صرف یہ ہے کہ وہاں معاملہ ایک طویل جنگ میں بدل گیا۔ادھردوسری طرف عالمی سطح پرامریکی جارحیت نے یورپ اورامریکاکے درمیان خلیج کوگہراکیاہے۔ یہ صورتحال روس کیلئے سفارتی دباؤکم کرنے اورنئی گنجائش پیداکرنے کاموقع فراہم کرتی ہے۔(جاری ہے)