یومِ چہلمِ امام حسینؓ، ملک بھر میں جلوس جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

یومِ چہلمِ امام حسینؓ، ملک بھر میں جلوس جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

ملک بھر کے مختلف شہروں میں نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر عقیدت و احترام سے جلوس نکالے جا رہے ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

کراچی، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جلوسوں کی نگرانی، راستوں کی مانیٹرنگ اور شہریوں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد
کراچی میں شہدائے کربلا کے چہلم کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے۔جلوس کے آغاز سے قبل نشتر پارک میں مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس سے علامہ شہنشاہ نقوی نے خطاب کیا۔ جلوس کے شرکاء نے امام بارگاہ علی رضا کے سامنے ایم اے جناح روڈ پر نمازِ ظہرین بھی ادا کی۔کراچی میں جلوس کی سیکیورٹی کے لیے 5 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ جلوس کے راستوں کو کنٹینرز اور رکاوٹیں لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے۔کراچی پولیس چیف آزاد خان نے نمائش چورنگی سمیت جلوس کی گزرگاہوں کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

لاہور میں مرکزی جلوس حویلی الف شاہ سے روانہ
لاہور میں چہلم حضرت امام حسینؓ کا مرکزی جلوس حویلی الف شاہ اندرون دہلی گیٹ سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں مسجد وزیر خان، چوہٹہ مفتی باقر، موچی گیٹ، رنگ محل اور بھاٹی گیٹ سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔جلوس کی سیکیورٹی کے لیے 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ روٹس کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جا رہی ہے۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق لاہور میں جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے 800 سے زائد کیمرے فعال کیے گئے ہیں، جبکہ ڈرون کیمروں کے ذریعے بھی فضائی نگرانی جاری ہے۔

راولپنڈی اور کوئٹہ میں بھی جلوس جاری
راولپنڈی میں شہدائے کربلا کے چہلم کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین سے برآمد ہوا، جبکہ کوئٹہ میں بھی چہلم کے موقع پر مختلف جلوس نکالے جا رہے ہیں۔کوئٹہ میں مرکزی جلوس علمدار روڈ جبکہ دوسرا جلوس ہزارہ ٹاؤن سے برآمد ہوا۔ پولیس حکام کے مطابق شہر میں سیکیورٹی کے لیے 1700 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس اور ایف سی اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔حکام کے مطابق جلوسوں کے راستوں پر سخت چیکنگ، سی سی ٹی وی نگرانی اور کوئیک رسپانس فورس کی تعیناتی سمیت تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔سیکیورٹی وجوہات کے پیش نظر کوئٹہ کے بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کی گئی ہے۔انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی ہدایات پر عمل کریں، متبادل راستے اختیار کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔