یومِ شہادت حضرت علیؑ: لاہور میں مرکزی جلوس کے باعث خصوصی ٹریفک پلان جاری

یومِ شہادت حضرت علیؑ: لاہور میں مرکزی جلوس کے باعث خصوصی ٹریفک پلان جاری

یومِ شہادت حضرت علی کے موقع پر صوبائی دارالحکومت لاہور میں نکالے جانے والے مرکزی جلوس کے پیش نظر سٹی ٹریفک پولیس نے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے تاکہ سکیورٹی اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

ٹریفک حکام کے مطابق ضریح مبارک کا مرکزی جلوس مبارک حویلی اندرون اکبری گیٹ سے برآمد ہو کر کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید نے ہدایت کی ہے کہ جلوس کے روٹس پر ایمبولینس اور دیگر ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے فوری طور پر راستہ کلیئر رکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سہولت کے لیے متعدد متبادل راستے بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔ 

پارکنگ کے خصوصی انتظامات
مرکزی جلوس میں شرکت کرنے والے افراد کی گاڑیوں کے لیے شہر کے سات مختلف مقامات پر پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ایک موریہ سے مستی گھاٹی شیرانوالہ گیٹ تک سنگل لائن پارکنگ کی اجازت ہوگی۔
گریٹر اقبال پارک
حیدر سائیں
سلیم ماڈل ہائی اسکول
چیمبر لین
برانڈرتھ روڈ
دہلی دروازہ کے قریب بھی گاڑیوں کی پارکنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
ٹریفک پولیس کو خصوصی ہدایات
ٹریفک وارڈنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ ڈیوٹی کے دوران نہ صرف ٹریفک کی روانی برقرار رکھیں بلکہ مشکوک افراد اور لاوارث اشیاء پر بھی کڑی نظر رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ 

بند اور متبادل راستے
ٹریفک پلان کے تحت شہر کے مختلف اہم راستوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں:آزادی فلائی اوور سے آنے والی ٹریفک کو ریلوے اسٹیشن لاہور کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔لنڈا بازار سے اندر سرکلر روڈ کی جانب آنے والی ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہوگا۔چوک میلاد سے اندرون دہلی گیٹ اور مسجد وزیر خان کی جانب ہر قسم کی ٹریفک کے داخلے پر پابندی ہوگی۔
اس کے علاوہ:

آزادی فلائی اوور سے بھاٹی چوک جانے والی سڑک بند رہے گی۔لوئر مال روڈ پر کسی بھی ملحقہ سڑک سے ٹریفک کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔کچہری چوک سے کربلا گامے شاہ تک لوئر مال روڈ مکمل طور پر بند رہے گی۔پانی والا تالاب سے رنگ محل جانے والی سڑک بھی بند رکھی جائے گی۔
شہریوں سے اپیل
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر سے پہلے ٹریفک پلان کو مدنظر رکھیں اور متبادل راستے اختیار کریں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے اور جلوس کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔