کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور زخمی ہو گیا، جبکہ دہشت گردوں نے ٹرین کو مچھ کی پہاڑیوں میں روک دیا۔
اطلاعات کے مطابق، مسافروں کو یرغمال بنانے کی بھی خبریں ہیں۔یہ واقعہ آج صبح ساڑھے نو بجے پیش آیا جب ٹرین کوئٹہ سے روانہ ہوئی اور گڈالار اور پیرو کنری کے علاقوں سے گزرتے ہوئے فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا، اور مسافر خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ علاقے میں فائرنگ کی آوازیں ابھی تک سنائی دے رہی ہیں۔عینی شاہدین اور لیویز ذرائع کے مطابق، مچھ کی پہاڑیوں میں یہ واقعہ پیش آیا، جہاں جعفر ایکسپریس کو روک دیا گیا ہے اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ریلوے پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین کو فوراً روک دیا گیا ہے، جس میں تقریباً 600 سے 700 مسافر سوار ہیں، اور کئی مسافروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تصدیق کا عمل جاری ہے۔
ڈی ایس ریلوے کے پی آر او کے مطابق، سبی میں تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اور ایمبولینسز کو جائے وقوع پر روانہ کر دیا گیا ہے۔سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق، مچھ کی پہاڑیوں کے اس علاقے کو فوراً گھیر لیا گیا ہے، اور مزید فورسز روانہ کی گئی ہیں۔ اس وقت تک ملزمان کے فرار ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ملزمان نے مسافروں کو یرغمال بنا لیا ہے اور علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ریلوے لائن کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کرکے ٹرین کو روکا گیا، جس کے بعد فائرنگ کی گئی، جس میں ڈرائیور سمیت کئی مسافر زخمی ہوئے۔ زخمی مسافروں کو سبی منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔