رفیع احمد
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کمیٹی اراکین کی جانب سے اینٹی نارکوٹکس فورس( اے این ایف)اور فیڈرل تحقیقاتی ایجنسی( ایف آئی اے) کے افسران سے سوالات کے جوابات میں بتایا گیا کہ مقتول مصطفیٰ عامر عرف تیمور اور ملزم ارمغان قریشی کے والدین کو معلوم تھا کہ ان کے بچے نشہ کرتے ہیں، اگر دیکھا جائے تو معروف ٹی وی اداکار ساجد حسن کا شوبز ماڈل و اداکار بیٹا سید ساحر حسن بھی عرصہ دراز سے منشیات کا خود بھی استعمال کر رہا تھا بلکہ یہ لوگ اچھی فیملی کے لڑکوں اور لڑکیوں کو بھی منشیات پلاتے اور سپلائی بھی کرتے تھے، یقیناً ان پینے والوں کے والدین کو علم تھا کی ان کے نوجوان بچے بچیاں نہ صرف ڈرگس استعمال کر تے ہیں بلکہ ڈانس پارٹیوں میں بھی شرکت کرتے ہیں، نشہ پورا کرنے کے لیے جرائم بھی کرتے ہیں۔ منشیات کا استعمال کرنے والوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ وہ کالجز کے طلبہ و طالبات کو پہلے مفت میں چرس، کرسٹل آیس اور ویڈ( weed) پلا کے عادی کرتے ہیں اور پھر ان امیر زادوں سے منہ مانگے پیسے وصول کرتے۔ ویڈ اس وقت سب سے مہنگا نشہ ہے کیونکہ یہ جنوبی امریکہ کی ریاست کولمبیا اور امریکہ کی سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا سے اسمگلنگ ہو کر آتی ہے۔ اس طرح ہمارے اربوں روپے بیرون ملک منتقل ہو رہے،قیمتی جانوں کا نقصان الگ ہو رہا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے درست کہا کہ منشیات استعمال کرنے والوں کے والدین با خبر تھے لیکن دانستہ طور پر ان کی حرکات کو نظر انداز کیا اور شاید وہ منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہ نہیں تھے۔ملزم ساحر حسن اپنی مکمل فیملی کے ساتھ رہتا تھا اور جب اس کے گھر تحقیقاتی ٹیم نے چھاپہ مارا تو اس وقت بھی اس کے پاس سے 557،گرام قیمتی ویڈ برآمد ہوئی جس کی مالیت لاکھوں روپے میں ہے۔ اسی طرح ارمغان قریشی کے والد کو پتہ تھا کہ ان کا بیٹا نہ صرف منشیات سپلائی کرتا ہے بلکہ وہ بے تحاشہ ویڈ کا استعمال بھی کرتا ہے۔ اس کیس میں ہمدردی حاصل ہوئی تو مصطفیٰ عامر عرف تیمور کے والدین کو حاصل ہوئی کیونکہ ان کے 23 ،سالہ پڑھے لکھے بیٹے کو نہایت ہی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ مصطفیٰ کا کبھی بہیمانہ قتل نہ ہوتا اگر اس کے والدین اس پر کڑی نگاہ رکھتے، اچھی تربیت کرتے۔ مصطفیٰ کے والدین نے متعدد بار الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے بیٹے کو قیمتی گاڑی بغیر نمبر پلیٹ،کار کیکالے شیشے رکھنے اور گاڑی ریس کا شوق تھا۔ مصطفیٰ کے والدین کو یقیناَ اس بات کا بھی علم ہوگا کہ اے این ایف نے 30، گرام ویڈ کی اسمگلنگ میں اس کی ایف آئی آر کاٹ کر اس کو گرفتار بھی کیا اور اس نے اپنے ڈرگس حاصل کرنے کے ذرائع بھی بتائے بعد ازاں ضمانت پر رہا بھی ہوا۔
ہمارے ملک میں لاکھوں نوجوان بلخصوص طلبہ وطالبات منشیات کا استعمال کر کے اپنی زندگیوں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں، اپنے بچوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے کی سب سے بڑی ذمہ داری والدین کی ہے، ان کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں، ان کے دوستوں کے بارے میں مکمل معلومات رکھیں، مذہب سے لگاؤ پیدا کریں،ڈانس پارٹی، شوبز کے کام سے دور رکھیں، ضرورت سے زائد رقم نہ دیں، راتوں کو باہر نہ رہنے دیں، کالجز پرنسپل سے رابطے میں رہیں اور ان کو مجبور کریں کہ سو فیصد کلاسز کا اہتمام کریں۔ سرکاری کالجز میں پڑھائی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بچے صبح ہی سے پڑھائی کے بہانے کسی کے گھر میں جمع ہو جاتے ہیں، شیشہ کیفے، ہوٹل کے ڈھابے اور پارکوں میں نشہ کرتے نظر آتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ منشیات سے متعلق مکمل آگاہی حاصل کریں اور یہ بات ذہن میں رکھ لیں منشیات کے عادی فرد کا کوئی علاج نہیں ہے بالاآخر "عبرت ناک موت" ہے۔ والدین اس بات کو بھی سمجھ لیں منشیات کی روک تھام حکومت کی ذمّہ داری ہے وہی پر آپ کی ذمّہ داری اپنے بچوں کے لیے بہت زیادہ ہے کیونکہ ڈرگ مافیا حکومت کے بس سے باہر ہوگیا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ منشیات اب ہر علاقے میں بآسانی مل جاتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ منشیات فروشوں کو جڑ سے ختم کر ے ورنہ خدا نخواستہ ڈرگ مافیا ان کو ہی جڑ سے ختم کردے گا۔۔۔۔۔