نئے صوبے اور فکرِ عامر

 محمد نعیم قریشی
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہے۔ کہیں جنوبی پنجاب کا مطالبہ ہے، کہیں بہاولپور کی تاریخی حیثیت کا حوالہ اور کہیں کراچی کو الگ انتظامی اکائی بنانے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میاں عامر محمود نے اس بحث کو ایک مختلف زاویہ دیتے ہوئے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی بات کی ہے۔ ان کا سوال بظاہر سادہ مگر اہم ہے: آبادی کئی گنا بڑھ گئی، شہر پھیل گئے، عوامی ضروریات تبدیل ہوگئیں تو کیا ہمارا انتظامی ڈھانچہ بھی وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہونا چاہیے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ اب سیاسی حلقوں میں بھی زیرِ بحث ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) اس معاملے میں تنہا آگے بڑھنے کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کی رضامندی کو ضروری سمجھتی ہے۔ شاید اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ اگر پنجاب کی انتظامی تقسیم بہتر حکمرانی کے نام پر ہوسکتی ہے تو پھر یہی اصول سندھ سمیت باقی صوبوں پر بھی یکساں طور پر زیرِ بحث آئے گا۔ اصول ایسا ہونا چاہیے جو لاہور پہنچ کر ختم ہو نہ کراچی کی سرحد پر تبدیل ہوجائے۔پنجاب کی آبادی تقریباً تیرہ کروڑ ہے۔ لاہور سے سیکڑوں کلومیٹر دور بہاولپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان کے شہری کو بہت سے اعلیٰ صوبائی معاملات کے لیے لاہور کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ سندھ میں بھی کراچی اور دور دراز اضلاع کے درمیان فاصلے اور انتظامی رسائی کے مسائل موجود ہیں۔ سوال جائز ہے کہ حکومت کو عوام کے قریب لانے کا کوئی بہتر طریقہ کیوں نہ تلاش کیا جائے؟لیکن اس بحث میں دنیا کی مثالیں احتیاط سے سمجھنا ضروری ہیں۔ بھارت میں آج 28 ریاستیں ہیں اور آزادی کے بعد اس کے داخلی نقشے میں کئی مرتبہ تبدیلی آئی۔ ہریانہ پنجاب سے الگ ہوا، اترکھنڈ اتر پردیش سے نکلا جبکہ تلنگانہ 2014ء￿  میں آندھرا پردیش سے الگ ریاست بنا۔ مگر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بھارت نے صرف آبادی بڑھنے کی وجہ سے ریاستیں تقسیم کیں۔ زبان، علاقائی شناخت، جغرافیہ، قبائلی خصوصیات، معاشی محرومی اور طویل سیاسی تحریکیں مختلف ریاستوں کے قیام کا سبب بنتی رہیں۔اگر آبادی ہی واحد پیمانہ ہوتی تو اتر پردیش کب کا تقسیم ہوچکا ہوتا۔ 2011ء￿  کی مردم شماری میں ہی اس کی آبادی تقریباً بیس کروڑ تھی۔ مغربی بنگال بھی بہت بڑی آبادی کے باوجود ایک ریاست ہے۔ بھارتی تجربے سے اصل سبق یہ ملتا ہے کہ انتظامی سرحدیں ہمیشہ کے لیے مقدس نہیں ہوتیں؛ حالات اور عوامی ضرورت تقاضا کریں تو ان پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔ترکی کی مثال بھی دلچسپ ہے۔ تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ آبادی کے ملک میں 81 صوبائی انتظامی اکائیاں ہیں، لیکن انہیں پاکستان کے پنجاب یا سندھ جیسے وفاقی صوبے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ترکی کا نظام زیادہ مرکزیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس مثال کو یوں سمجھنا زیادہ مناسب ہے کہ انتظامی سہولت کے لیے چھوٹی اکائیاں بنائی جاسکتی ہیں، جیسے ہمارے ہاں شیخوپورا سے ننکانہ صاحب اور ٹھٹھہ سے سجاول کو الگ ضلع بنایا گیا۔جرمنی کا معاملہ مختلف ہے۔ تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ آبادی کے لیے 16 وفاقی ریاستیں ہیں جنہیں تعلیم سمیت کئی شعبوں میں نمایاں اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن جرمنی صرف زیادہ ریاستوں کی وجہ سے خوشحال نہیں۔ مضبوط ادارے، قانون کی حکمرانی، مالی نظم، جواب دہی، مؤثر مقامی حکومتیں اور اختیارات کی واضح تقسیم اس کامیابی کے بنیادی ستون ہیں۔یہیں پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ فرض کریں کل پنجاب کے چار صوبے بنادیے جائیں۔ چار وزرائے اعلیٰ، چار کابینہ، نئی اسمبلیاں، نئے سیکرٹریٹ، گورنر ہاؤس اور بیوروکریسی وجود میں آجائے۔ لیکن اگر اختیار پھر بھی نئے صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رہے تو عام شہری کو کیا ملا؟ لاہور کی مرکزیت ختم کرکے ملتان یا بہاولپور کی مرکزیت قائم کردینا بذاتِ خود انتظامی انقلاب نہیں ہوگا۔اصل تبدیلی اختیار کو نیچے منتقل کرنے سے آئے گی۔ آئین کا آرٹیکل 140-A بھی منتخب بلدیاتی اداروں کو سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیارات منتقل کرنے کی بات کرتا ہے۔ مگر ہمارے سیاسی نظام میں صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو مکمل طور پر بااختیار بنانے سے گریزاں رہی ہیں۔ انتخابات ہوجاتے ہیں لیکن وسائل، عملہ اور فیصلہ سازی کا بڑا حصہ صوبائی حکومت کے پاس رہتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ کراچی میں سیوریج کا مسئلہ ہو یا لاہور میں صفائی اور سڑکوں کا، سوال وزیراعلیٰ سے کیا جاتا ہے۔ دنیا کے مؤثر شہری نظاموں میں روزمرہ شہری معاملات پر میئر اور مقامی حکومت جواب دہ ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں میئر سے کارکردگی تو مانگی جاتی ہے لیکن اکثر اس کے پاس مکمل اختیار اور وسائل نہیں ہوتے۔جس دن کراچی اور لاہور کے میئر حقیقی مالی اور انتظامی اختیارات حاصل کرلیں گے، ان کے انتخابات کی اہمیت بھی بدل جائے گی۔ شہری امیدواروں سے پوچھیں گے کہ ٹرانسپورٹ کیسے بہتر ہوگی، پانی اور صفائی کا نظام کون درست کرے گا، رہائش، ماحول اور شہری منصوبہ بندی کا مستقبل کیا ہوگا۔ تب کراچی اور لاہور کے میئر کا انتخاب بھی لندن اور نیویارک جیسے بڑے شہروں کی طرح نمایاں سیاسی اور شہری واقعہ بن سکتا ہے۔یہاں میاں عامر محمود کی سوچ ایک اہم قومی مکالمے کا دروازہ ضرور کھولتی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے موجودہ چار صوبے انتظامی طور پر کافی ہیں یا نہیں، اس سوال پر تعصب کے بغیر بحث ہونی چاہیے۔ مگر جواب صرف نقشے پر مزید لکیریں کھینچنا نہیں۔نئے صوبے بنیں تو ان کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام بھی ناگزیر ہونا چاہیے۔ وسائل ضلع، تحصیل اور یونین کونسل تک جائیں۔ شہر کا منتخب میئر شہر چلائے اور مقامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں۔بہاولپور کے شہری کو ہر معاملے کے لیے لاہور نہ جانا پڑے، یہ اچھی اصلاح ہوگی۔ لیکن اگر کل بہاولپور صوبہ بن جائے تو پھر حاصل پور کے شہری کو ہر کام کے لیے بہاولپور کیوں جانا پڑے؟ یہی پوری بحث کا نچوڑ ہے۔محسن نقوی کے بعد احسن اقبال بھی نظام کی ناکامی کا اعتراف کرچکے ہیں۔ اب محض اعتراف سے آگے بڑھ کر کچھ نیا ہونا چاہیے، مگر ایسا جس کا حاصل وصول براہِ راست عوام کو ملے۔ فیصلے ان کے قریب ہوں، وسائل ان کے شہروں اور علاقوں تک پہنچیں، روزمرہ مسائل مقامی سطح پر حل ہوں اور ایک معمولی سرکاری کام کے لیے انہیں سیکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومتوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔پاکستان کو چار صوبے چاہئیں، بارہ یا بتیس، اس کا فیصلہ قومی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقے سے ہونا چاہیے۔ مگر ایک اصول واضح ہے: اختیار جتنا عوام کے قریب ہوگا، جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔

نقشہ بدلنا نسبتاً آسان ہے، نظام بدلنا مشکل۔ اور پاکستان کا اصل مسئلہ نقشے سے زیادہ نظام کا ہے۔