سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے مبینہ آڈیو لیک ہونے سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے پارٹی قیادت اور اندرونی پالیسیوں پر سخت مؤقف اپنایا ہے۔
مبینہ آڈیو میں علی امین گنڈا پور نے پارٹی میں ڈکٹیٹر شپ ٹائپ پالیسی کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ نوٹس دینے والے پہلے اپنا ماضی اور کردار دیکھیں۔ انہوں نے کہا، "تم ناچو تو فیشن اور ہم ناچیں تو مجرا"، یعنی دوہرے معیار پر تنقید کی۔ علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ لوگوں کو عزت دی جائے کیونکہ کوئی کسی کا زرخرید ملازم یا غلام نہیں ہوتا، اور یہ بھی کہا کہ حکومتی اور کابینہ کے وزراء الزامات لگانے کے باوجود آج خود وزیر بنے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا کہ دھمکیوں اور نوٹسز کے بجائے معاملات محبت اور عزت سے سلجھائے جائیں کیونکہ اس طرح کے رویے پارٹی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یہ گفتگو اندرونی پالیسیوں اور پارٹی کے اتحاد و اتفاق پر سوالات اٹھا رہی ہے اور سیاسی حلقوں میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔