پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اگر کل تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی گئی، تو وہ بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود 34 ہفتے سے ملاقات نہیں کروائی گئی ہے، اور اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے رولنگ جاری کریں۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے جواب دیا کہ اگر بانی اس ایوان کے رکن ہوتے تو پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے جاتے، اور کہا کہ 3 بار حکومت نے اپوزیشن کو ایک میز پر بٹھایا، مگر وہ نہیں آتے۔میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ بجٹ عوام دوست نہیں ہوگا کیونکہ پہلے ہی مہنگائی بہت زیادہ ہے، اور عوام کو فوری ریلیف ملنا چاہیے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے سیشن پر 1 دن میں 6 کروڑ سے زیادہ کے اخراجات آتے ہیں، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کورم پورا کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعظم کا کام ہے کہ وہ پارلیمنٹ آئیں، عوام کی باتیں سنیں اور جواب دیں، اگر یہ حکومت حقیقی جمہوریت والی ہوتی تو پارلیمنٹ کو نظر انداز نہ کرتی۔