ٹرمپ ایران پر پھر میزائل حملے مختلف شہروں میں دھماکے
امریکی صدر ٹرمپ نے سچویشن روم میں کابینہ اراکین اور اہم عہدیداروں سے اہم ملاقات کی ،ایک ایسے آپشن پر بھی غور کیا گیا کہ جس میں ایران پر مختصر مدت میں بڑے حملے کیے جائیں تاکہ ایران مذاکرات پر اپنی پوزیشن کو تبدیل کرے
تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے ایران پر پھر حملے شروع کر د ئیے ہیں اور تہران سمیت مختلف شہروں میں دھماکے سنے گئے ہیں۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق دارلحکومت تہران اور ایرانی شہربندرعباس میں بھی دھماکا سنا گیا ہے۔ایرانی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ قشم اور ہینگام جزائر پر میزائل حملے ہوئے ہیں جبکہ ایرانی بندرگاہ گر گان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ( سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے شروع کر دیے ہیں، یہ حملے ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے جارہے ہیں۔ایرانی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان سمندر میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران پر امریکی حملے شروع ہوگئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے شروع کردیے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران میں متعدد اہداف پر دفاع میں اضافی حملے شروع کیے۔پاکستانی وقت کے مطابق رات 2:15 پر امریکہ نے ایران پر حملے کیے۔ایران کے شہر میناب، سیرک اور جزیرہ کیش میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایران کے صوبہ فارس، مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام متحرک ہوگیا۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق قشم اور ہینگام جزائر پر میزائل حملے ہوئے ہیں۔ایران کی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی بندرگاہ گرگان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔ایران پر مسلسل دوسرے روز اور مزید سخت حملے کی دھمکی دینے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے سچویشن روم میں کابینہ اراکین اور اہم عہدیداروں سے اہم ملاقات کی ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ملاقات میں ایک ایسے آپشن پر بھی غور کیا گیا کہ جس میں ایران پر مختصر مدت میں بڑے حملے کیے جائیں تاکہ ایران مذاکرات پر اپنی پوزیشن کو تبدیل کرے۔سچویشن روم میٹنگ میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف، جوائنٹ چیفس چئیرمین جنرل ڈین کین، وائٹ ہاوس کے مندوب اسٹیو وٹکوف اور دیگر سینئر اہلکار موجود تھے۔