ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں تباہی مچادی، متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، تل ابیب میں کئی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ، درجنوں افراد زخمی ہوگئح
تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں،ایرانی شہر اراک میں ایک خاندان کے 4 افراد شہید، ایران میں شہادتیں 1500 سے تجاوز کر گئیں، 18 ہزار سے زائد زخمی
عراق میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ و ڈرون حملہ، یواے ای اور قطر میں بھی امریکی تنصیبات پر حمے ،یو اے ای نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی
برسلز‘تہران،تل ابیب(آئی این پی )یورپی یونین نے بھی خلیج فارس میں جہاز نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ یورپی یونین آبنائے ہرمز میں کسی بھی آپریشن میں حصہ نہیں لے گی۔یورپی یونین نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتکاری کو ہی بہترین راستہ قرار دیا، یورپی ممالک نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سے ایران جنگ کی حکمت عملی پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ یورپی رکن ممالک فی الحال آبنائے ہرمز تک یورپی بحری مشن کو وسعت دینے کے حق میں نہیں، خطے میں کشیدگی کے باوجود زیادہ تر ممالک جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔کایا کلاس نے کہا کہ خوراک، کھاد اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے، یورپی ممالک بحران کا حل سفارتی ذرائع سے نکالنے کی حمایت کرتے ہیں‘دریں اثناء ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت سترہویں روز میں داخل ہو گئی، تہران میں کئی مقامات پر دھماکے ہوئے،ایرانی شہر اراک میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید ہوگئے، جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں آپریشن وعدہ صادق 4 کی 57 ویں لہر کے تحت اسرائیلی اور امریکی اہداف پر میزائل حملے کئے ہیں عراق میں امریکی سفارتخانے پر پھر سے بھرپور راکٹ و ڈرون حملے کیے گئے،متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق منگل کو ایران کے دارالحکومت تہران میں یکے بعد دیگرے کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے سعد آباد پیلس کمپلیس کے قریب سنے گئے تاہم دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں سابق شاہی محل کے قریبی علاقے سے آئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کی 57 ویں لہر کا آغاز کیا گیا ہے جس میں مختلف قسم کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ بیان کے مطابق ان حملوں کو یا سید الساجدین علیہ السلام کے نام سے منسوب کیا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز، میزائل دفاعی نظام اور مواصلاتی تنصیبات شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔پاسداران انقلاب نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا ایرانی شہر اراک پر حملہ،ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید ہو گئے