اسرائیل کا ایران پر حملہ رہائشی علاقوں پر بھی میزائل برسا دئیے
پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی،خواتین ، بچوں سمیت متعدد افراد حملے میں شہید، رہائشی عمارتوں، جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا : ا یرانی میڈیا، ،چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری ، متعدد جوہری سائنسدان مارے گئے: اسرائیلی عہدیدار
تہران، تل ابیب(تازہ اخبار مانیٹرنگ ) اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا،ایران کا بھرپور جواب دینے کا اعلان، امریکا کا کہنا ہے کہ حملے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ، ایرانی میڈیا کہنا ہے رہائشی علاقے پر حملے میں متعدد افراد شہید ہو گئے جن میں ،خواتین بچے بھی شامل ہیں،خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے پاسداران انقلاب کے ہیڈ آفس کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں پاسداران انقلاب کے کمانڈرحسین سلامی شہید ہو گئے ، اسرائیلی دفاعی عہدے دار نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں ممکنہ طور پر پاسداران انقلاب کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری جاں بحق ہوگئے ہیں۔ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری اورکئی سینئر جوہری سائنسدان پر حملے اور ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے تہران اور دیگر شہروں میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ متعدد جوہری سائنسدان مارے گئے اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی توقع ہے، اس لیے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔یروشلم میں شہریوں کو سائرن کی آواز سے بیدار کیا گیا، جس کے فوراً بعد موبائل فونز پر خطرے سے آگاہی کے پیغامات بھی موصول ہوئے۔امریکی ٹی وی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے صورتحال کے باعث کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کا جوہری پروگرام، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور دیگر اہم عسکری تنصیبات تھیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ یہ ایئرپورٹ ایرانی دارالحکومت سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے ایران میں درجنوں مقامات پرفضائی حملے کیے ہیں، دارالحکومت تہران کیشمال مشرقی علاقے میں بھی دھماکوں کی زور دار آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی د ے رہے ہیں ۔ اسرائیلی فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس چند دنوں میں 15 جوہری بم بنانے کے لیے کافی مواد موجود ہے۔اسرائیل یقینی بنارہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پراسرائیلی حملے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں ہے۔امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے خلاف حملوں میں ملوث نہیں، ہماری ترجیح خطے میں امریکی افواج کا تحفظ ہے۔امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ اسرائیل نے ہم سے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی اپنے دفاع کے لیے ضروری تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیل کی تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر ہیں، ہماری لڑائی ایرانی عوام سے نہیں بلکہ ایرانی آمریت سے ہے.اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے جوہری افزودگی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ہماری لڑائی ایرانی عوام سے نہیں بلکہ ایرانی آمریت سے ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملے نے ’ایران کے جوہری پروگرام کے دل کو نشانہ بنایا ہے۔نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی شہر نطنز میں ایران کی مرکزی جوہری افزودگی کے سینٹر کو نشانہ بنایا ہے جو ایران کے دارالحکومت سے 225 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے سائنسدانوں کو نشانہ بنایا ہے جو ایرانی ایٹمی بم پر کام کر رہے تھے۔نتن یاہو نے کہا کہ یہ حملے اتنے دن تک جاری رہیں گے جتنے دن تک ہمیں اہداف پورے نہیں کر لیتے۔‘نتن یاہو کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل نے کچھ لمحوں قبل آپریشن رائزنگ لائن کا آغاز کیا ہے جو اسرائیل کی بقا کے خلاف ایرانی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا آپریشن ہے۔ یہ آپریشن اتنے دن تک جاری رہے گا جب تک اس کے پھیلاؤ کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔‘انھوں نے کہا کہ ’حالیہ مہینوں میں ایران نے ایسے اقدامات اٹھائے جو اس سے پہلے اس نے کبھی نہیں اٹھائے تھے۔ یہ اقدامات افزودہ یورینیم کو ہتھیار میں بدلنے کے تھے۔ اگر ایران کو نہ روکا گیا تو یہ بہت کم وقت میں ایک جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سال میں بھی ہو سکتا ہے اور چند ماہ کے اندر بھی، ایک سال سے بھی کم عرصے میں۔ اسرائیل کی بقا کو واضح اور فوری خطرہ ہے۔