قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ، معاشی استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی‘وفاق و صوبوں میں ہم آہنگی، 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ ہدف منظور

 ترقیاتی بجٹ کی منظوری منصوبوں کی   اے  آئی سے نگرانی کا فیصلہ  دفاع کیلئے وسائل کی فراہمی اولین ترجیح ہے:شہبازشریف
 زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا ہماری ترجیح ہے،دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے وسائل درکار ہیں، پوری قوم خصوصا خیبرپختونخوا، بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں
 آبادی، تعلیم اور صحت بڑے چیلنجز ہیں ، وفاق و صوبوں کا اشتراک ہے‘  صحت، تعلیم، بچوں میں غذائی کمی  کے خاتمے اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ترجیحات ہیں،محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائیگا
 ٹیم ورک کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کئے، ملکی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،مشکلات کے باوجود کوشش کی  آئی ایم ایف پروگرام پرعمل پیرا رہیں:وزیر اعظم کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو
 اسلام آباد(    آن لائن‘آئی این پی  )وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل  کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، ترقیاتی اہداف اور آئندہ مالی سال کی حکمت عملی سمیت متعدد اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق تمام ایجنڈا نکات کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔وزیراعظم نے موجودہ مشکل معاشی حالات میں وفاقی حکومت سے تعاون پر چاروں وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان یہی ہم آہنگی اور یکجہتی ملک کی ترقی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔اجلاس میں شرکاء   نے خلیج میں حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستانی معیشت کو مستحکم رکھنے اور خطے میں سفارتی کوششوں کے ذریعے امن کے فروغ پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔وزیراعظم نے بڑھتی ہوئی آبادی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحت، تعلیم، بچوں میں غذائی کمی  کے خاتمے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا قومی ترجیحات ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کی حکمت عملی پر زور دیا اور برآمدات پر مبنی معیشت کو ترقی کی بنیاد قرار دیا۔اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے، اور منصوبوں کو قومی و پائیدار معاشی اہداف کے مطابق ترتیب دینے کی ہدایت بھی کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ قومی کوششوں سے پاکستان کو خود انحصاری اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی، صوبائی ترقیاتی پروگرام اور سرکاری اداروں کے ترقیاتی اخراجات پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی ترقیاتی بجٹ 3669 ارب روپے منظور کیا گیا۔اجلاس میں 2025-26 کے لیے 3.7 فیصد اور اگلے سال کے لیے 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ ہدف کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک  کی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی گئیں جن میں اربوں روپے کے درجنوں ترقیاتی منصوبوں کی منظوریوں کی تفصیل شامل تھی۔مزید بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے نئی پالیسی تیار کر لی گئی ہے جس میں پہلی بار مصنوعی ذہانت ( اے   آئی ) کے ذریعے منصوبوں کی جانچ کا پائلٹ منصوبہ بھی شامل ہے۔اجلاس میں ‘‘اْڑان پاکستان’’ کے تحت قومی اقتصادی ترقی کے 11 مشنز کی منظوری بھی دی گئی اور وزارت منصوبہ بندی کو ہدایت کی گئی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ان کا جامع روڈ میپ تیار کرے۔ وزیراعظم نے اجلاس کے تمام فیصلوں پر اتفاق رائے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی قومی اتحاد پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔شہباز شریف نے کہا  بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا ہماری ترجیح ہے۔ صوبوں کے ساتھ مزید وسائل پیدا کرنے کے حوالے سے مشاورت ہوئی، دفاع کے لیے وسائل کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے وسائل درکار ہیں، پوری قوم خصوصا خیبرپختونخوا، بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔