قومی اقتصادی سروے اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی فی کس اوسط سالانہ آمدن بڑھ کر 1901ڈالرز ہو گئی: وزیرخزانہ
پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 تک پہنچ گئی، دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد ‘ شہری علاقوں میں 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ،ہر 100 میں سے تقریباً 29 شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں
بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ‘ گائے بیل 6کروڑ 19 لاکھ ‘ بھیڑیں 3کروڑ 35 لاکھ ‘بکری‘ بکرے 9 کروڑ 18 لاکھ ہوگئے‘پولٹری سیکٹر میں نمایاں اضافہ، انڈوں اور گوشت کی پیداوار میں بھی بہتری
پاکستان کا بیرونی قرض 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، طویل المدتی قرضوں کا حصہ زیادہ ہے‘ رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی‘جون کے آخر تک زرِمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالرز ہو جائیں گے: وزیر خزانہ
اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی)ملک میں رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے، فصلوں ، لائیوسٹاک، جنگلات، ماہی گیری اور صنعتوں میں سے کسی بھی شعبے کی ترقی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔قومی اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے میں مقررہ ہدف 4.5 فیصد کی بجائے ترقی کی شرح 2.8 فیصد رہی، فصلوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2.4 فیصد رہی ہے، لائیو سٹاک کیلئے ترقی کا ہدف 4.2 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 3.7 فیصد ہے۔ جنگلات کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا، شرح نمو2 فیصد ہے، ماہی گیری کیلئے ترقی کا ہدف3 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 1.6 فیصد رہی، صنعت کیلئے ترقی کا ہدف 4.3 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔معدنیات کیلئے ترقی کا ہدف 3 فیصد تھا جبکہ اس کی شرح نمو 0.38 فیصد ہے، پیداواری شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 4.7 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6.6 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔چھوٹی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 8.9 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 8.5 فیصد رہی، بجلی گیس اور واٹر سپلائی کی نمو کا ہدف 3.5 تھا لیکن گروتھ منفی ریکارڈ ہوئی، بجلی گیس و واٹر سپلائی میں 10 فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔تعمیرات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3.8 فیصد جبکہ ترقی کی شرح 5.7 فیصد رہی ہے، خدمات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 4.09 فیصد ریکارڈ ہوئی، ہول سیل و ریٹیل کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3.9 فیصد تھا اور شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3.4 فیصد کی نابت 2.3 فیصد تک ریکارڈ ہوئی، ہوٹل انڈسٹری و فوڈ کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4.1 فیصد جبکہ شرح نمو 3.9 فیصد رہی، معلومات اور مواصلات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 5 فیصد کی نسبت 7.5 فیصد رہی ہے۔ انشورنس اور مالیاتی شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 5 فیصد جبکہ گروتھ محض صفر 0.32 فیصد رہی، رئیل سٹیٹ سیکٹر میں ترقی کا ہدف4.2 فیصد جبکہ شرح نمو 3.6 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے، شعبہ تعلیم میں شرح نمو 4.5 فیصد کی نسبت ترقی کی شرح 5.2 فیصد رہی ہے۔ملک میں بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ اور گائے بیل کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ ریکارڈ ہوئی، دنبے اور بھیڑ کی 3 کروڑ 35 لاکھ جبکہ بکری اور بکرے 9 کروڑ 18 لاکھ ریکارڈ ہوئی۔اکنامک سروے کے مطابق اونٹ کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار جبکہ گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک ہے، رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک ریکارڈ ہوئی ہے۔ گندم،چاول،گنے کی پیداوار میں اضافہ جبکہ مکئی،کپاس کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی،چنے کی پیداوار میں غیر معمولی 50.4 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی ہے‘وفاقی وزیرخزانہ و اقتصادی امور سینیٹر محمد اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالرز سے بڑھ کر 1901ڈالرز ہو گئی، مشرقِ وسطی کی صورتِ حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی۔رِمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالرز ہیں، جون کے آخر تک زرِمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالرز ہو جائیں گے، ملک کے پولٹری سیکٹر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس کے تحت مختلف کیٹیگریز میں پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔سروے کے مطابق مالی سال کے دوران کمرشل پولٹری کی پیداوار بڑھ کر 2,163.73 ملین تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال 1,968.71 ملین تھی، اس طرح شعبے میں واضح اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران پاکستان کے سرکاری بیرونی قرضوں کا حجم بڑھ کر 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو مارچ 2026 کے اختتام تک 364 ملین ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے معدنی شعبے میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جس کے تحت کئی اہم معدنیات کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ‘قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح ہر 100 میں سے تقریباً 29 شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ ماہانہ 8 ہزار 483 روپے کمانے والا شہری غربت کی لکیر سے اوپر شمار کیا جاتا ہے جو کہ 30.5 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔علاقائی اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں یہ 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے‘ وفاقی وزیر خزا نے قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہو ئے کہا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، معاشی ترقی کی شرح نمو3.7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی