بجٹ غریب کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکا ہے، عمر ایوب کا الزام

بجٹ غریب کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکا ہے، عمر ایوب کا الزام

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے وفاقی بجٹ 2025-26 کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ بجٹ غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکا ہے"۔

بجٹ پر اعتراضات:
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا:"ہمیں بجٹ کی کوئی دستاویز نہیں دی گئی۔ سارا عمل غیرقانونی تھا۔""وزیراعظم ہاؤس کا بجٹ 17 فیصد بڑھا دیا گیا، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 10 فیصد اضافہ کیا گیا۔""گزشتہ روز سرکاری ملازمین اسلام آباد میں اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے رہے۔"
عدالتی کارروائیوں پر تحفظات:
عمر ایوب نے دعویٰ کیا کہ:"اڈیالہ جیل اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے مقدمات کی سماعتیں ملتوی کر دی گئیں۔""5 جون کو مقدمہ مقرر تھا، پھر 11 جون کو سماعت طے ہوئی، لیکن کچھ نہ ہوا۔""جہاں جج ہماری بات نہیں سن سکتے، وہاں آئین اور قانون کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟"
بنانا ری پبلک کا طعنہ:
انہوں نے حکومت کے اقدامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"یہ سب کچھ بنانا ری پبلک میں ہوتا ہے۔ اوچھی حرکتوں سے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے قد کاٹھ میں کمی نہیں لائی جا سکتی۔"
جیل میں بشریٰ بی بی سے ناروا سلوک کا الزام:
عمر ایوب نے جیل انتظامیہ پر سنگین الزامات لگائے:"بشریٰ بی بی کو گرمی میں گندا پانی اور خراب کھانا دیا جا رہا ہے۔""ان کے عزیز و اقارب سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔"
"بانی پی ٹی آئی سے سیاسی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔"
نتیجہ:
عمر ایوب کے مطابق، موجودہ حکومت نے عدالتی عمل، جمہوری اقدار، اور انسانی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے ملک کو شدید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔