اچھی خبریں بھی کچھ عناصر کو تکلیف دیتی ہیں: عظمیٰ بخاری

اچھی خبریں بھی کچھ عناصر کو تکلیف دیتی ہیں: عظمیٰ بخاری

لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بعض سیاسی عناصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کوئی اچھی خبر آتی ہے، کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی کے نتیجے میں ملک میں "خوشیوں کا موسم" آ چکا ہے، اور کئی لوگوں کے چہروں پر پریشانی نمایاں ہے۔

حکومت کی کامیابیاں اور اپوزیشن پر تنقید:
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت کی مسلسل کامیابیوں پر کچھ حلقے ناخوش ہیں۔انہوں نے وفاقی بجٹ 2024-25 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالا گیا تھا، لیکن اس بار وزیراعظم شہباز شریف نے عوام دوست بجٹ پیش کیا، جس پر وہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔
اپوزیشن کے رویے پر تبصرہ:
ان کا کہنا تھا کہ "ایک مخلوق ایسی ہے جو پاکستان میں اچھی خبریں برداشت نہیں کرتی"۔عظمیٰ نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ پاکستان سری لنکا جیسا بن جائے۔
معیشت میں بہتری کا ذکر:
انہوں نے بتایا کہ آج ہی اسٹاک مارکیٹ میں 2100 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو حکومت پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت ملک کی بہتری کے لیے کام نہیں کرنا چاہتی اور اب "واشنگٹن چلو" جیسے نعروں پر اتر آئی ہے۔
سیاسی طرزِ زندگی اور قربانیوں کا ذکر:
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب تنخواہ نہیں لیتے، اور ان جیسے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کو بھی سیاست کے ساتھ ساتھ روزگار کے دیگر ذرائع اپنانے پڑتے ہیں۔انہوں نے یوٹیوبرز اور بیرون ملک بیٹھے کچھ افراد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نتیجہ:
پریس کانفرنس میں عظمیٰ بخاری نے حکومت کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اپوزیشن کی منفی سیاست اور بیانیے کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مثبت سوچ کو فروغ دیں اور جھوٹے پروپیگنڈے سے دور رہیں۔