پنجاب حکومت نے تاریخی لیڈی ولنگڈن اسپتال کو اس کی مخدوش حالت کے پیشِ نظر خالی کرانے اور نئے سرے سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کی عمارت خستہ حال ہے اور عوامی مفاد میں اس کی جدید طرز پر ازسرنو تعمیر ضروری ہو چکی ہے۔
235 بستروں پر مشتمل جدید کمپلیکس تعمیر ہوگا
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ:"لیڈی ولنگڈن اسپتال کی ازسرِ نو تعمیر پر 7 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ اسپتال میں 235 بستروں پر مشتمل ایک جدید کمپلیکس قائم کیا جائے گا، جس میں تمام تر سہولیات موجود ہوں گی۔"انہوں نے واضح کیا کہ اسپتال کے ایک یونٹ کو شاہدرہ اسپتال میں، جبکہ باقی دو یونٹس کو وقتی طور پر دوسرے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا تاکہ مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت میں تعطل نہ آئے۔
صحت کارڈ بندش کی خبروں کو پروپیگنڈا قرار دے دیا گیا
صوبائی وزیر اطلاعات نے صحت کارڈ کی بندش کے حوالے سے خبروں کو "جھوٹا پروپیگنڈا" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:"پنجاب میں صحت کارڈ بند نہیں ہوا، یہ محض عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ آج بھی بہت سے نجی اسپتال اس سہولت کے تحت علاج فراہم کر رہے ہیں۔"انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب شہریوں کو ان کی گھروں کی دہلیز پر مفت ادویات فراہم کر رہی ہے، اور سرکاری اسپتالوں میں تمام ٹیسٹ اور ادویات بھی مفت دستیاب ہیں۔
فیلڈ اسپتال وزیراعلیٰ کی فلیگ شپ اسکیم
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے وژن کے تحت بنائے گئے فیلڈ اسپتال عوامی خدمت کی اعلیٰ مثال ہیں:"ایک کروڑ کے قریب لوگ فیلڈ اسپتالوں سے استفادہ حاصل کر چکے ہیں، اور ہم کینسر سمیت مہنگی بیماریوں کی ادویات بھی فراہم کر رہے ہیں۔"
کینسر اسپتال ڈیڑھ سال میں فعال ہوگا
صوبائی وزیر نے مزید انکشاف کیا کہ حکومت پنجاب ڈیڑھ سال میں ایک مکمل کینسر اسپتال بھی فعال کرنے جا رہی ہے، جو صوبے کے عوام کے لیے ایک انقلابی قدم ہو گا۔