کرم کو بھاری ہتھیاروں سے پاک کرنا ضروری، کچھ عناصر جنگ کے خواہاں ہیں: پختونخوا حکومت

کرم کو بھاری ہتھیاروں سے پاک کرنا ضروری، کچھ عناصر جنگ کے خواہاں ہیں: پختونخوا حکومت

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر سیف نے کہا کہ ضلع کرم کو بھاری ہتھیاروں سے پاک کرنا ناگزیر ہے، لیکن کچھ عناصر جنگ کے خواہاں ہیں۔

ضلع کرم کے گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں نفرتوں کو مٹانے کی ضرورت ہے تاکہ جنگ خودبخود ختم ہو سکے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ضلع کرم کی مرکزی شاہراہیں جلد عوامی آمد و رفت کے لیے کھول دی جائیں گی اور وہاں موجود بنکرز عوامی تعاون سے ختم کیے جائیں گے۔ صوبائی حکومت ہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے ادویات کی فراہمی جاری رکھے گی اور فضائی آمد و رفت کی سروس بھی جلد بحال کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ فریقین امن چاہتے ہیں، تاہم کچھ عناصر کے مفادات جنگ سے وابستہ ہیں، جن کی نشاندہی عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ان عناصر کے خلاف حکومت سخت کارروائی کرے گی۔

 انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کا یہ عمل مستقل طور پر جاری رہے گا۔صوبائی مشیر کا کہنا تھا کہ اگر مری معاہدے پر عمل درآمد ہوتا تو آج خونریزی نہ ہوتی۔ ضلع کرم میں امن کا مسئلہ کئی نسلوں سے جاری ہے اور اس بار گرینڈ جرگے کا مقصد اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہے تاکہ آئندہ نسلیں اس سے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ امن کے قیام کے لیے سب اکٹھے ہوئے ہیں اور صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور نے صوبائی سطح پر ایک سپروائزری کمیٹی قائم کی ہے، جس میں سول انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران شامل ہیں۔