بجٹ مسترد ، اسمبلی ،سینیٹ میں احتجاج کرینگے:تحریک انصاف

قائدین کی رہائی کیلئے حکمت عملی طے کی جائیگی، عمران پر جعلی مقدمات کی مذمت
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا گیا، کمیٹی نے بجٹ 2025/26 کو مسترد کردیا اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کا احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے کہا موجودہ حکومت جعلی ہے بجٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں، انہوں نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ کمیٹی نے اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی کے رویے کی مذمت کی اورکہا سپیکر قومی اسمبلی جانبدار بن چکے ہیں،ایاز صادق پارٹی کے نمائندے نہ بنیں سپیکر بنیں۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ غریب غربت کی چکی میں پس رہے ہیں حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہورہیں، بجٹ سیشن میں ہر موقع پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ اجلاس میں عمران خان پر جعلی مقدمات اور سیاسی انتقام کی بھی مذمت کی گئی۔ پارلیمانی کمیٹی نیفیصلہ کیا کہ قائدین کی رہائی کے لیے مربوط حکمت عملی طے کی جائے گی، سپیکر اور قومی اسمبلی ارکان کی تقاریر براہ راست دکھانے کا معاملہ اٹھائیں گے ، پی ٹی آئی ارکان کی تقاریر کی نشریات پر ایوان میں معاملہ اٹھایا جائے گا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ پی ٹی آئی کی تقاریر نشر نہ کرنے پر تحریک استحقاق اور سپیکر کیخلاف احتجاج کیا جائے گا، قومی نشریاتی ادارے اگر تقریر نہیں نشر کرتے تو احتجاج کیا جائے گا، اس موقع پر پی پی 52 سمبڑیال ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی مذمت بھی کی گئی۔بیرسٹر گوہر نے کہا حکومت نہ نجکاری کرپائی، نہ عوام کو ریلیف دیا اور نہ غربت کا خاتمہ ہوا، اقتصادی سروے میں کوئی ہدف حاصل نہ ہونے کا اعتراف کیا گیا۔سینیٹر علی ظفر نے پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہماری جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی میٹنگ ہے، اس اہم میٹنگ میں فیصلہ ہوگا، بجٹ کے اعداد و شمار کے مطابق عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل نے پارلیمنٹ کے باہر گفتگو میں کہا حکومت میں زبردستی بیٹھے ہوئے قصائی عوام کی کھال اتار رہے ہیں،فارم 47 والے سیاسی لوگ نہیں۔