آسام کے 5اضلاع میں مویشی ذبح کرنے کے الزام میں 16سے زائد مسلمان گرفتار کرلیے گئے
نئی دہلی (آئی این پی) عید الاضحی کے موقع پر بھارت میں گائو رکھشکوں کی دہشت گردی عروج پر رہی، جہاں مسلم شناخت ہونا بھی بھارتی شہریوں کے لیے جرم بن گیا ہے۔عیدالاضحی کے موقع پر مودی کی سرپرستی میں ہندوتوا غنڈوں کا راج دیکھا گیا، جنہوں نے مسلم شناخت کے حامل افراد کا جینا حرام کیے رکھا۔ ہندوتوا غنڈے مسلمانوں پر گائو رکھشا کے نام پر حملہ آور رہے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق حیدرآباد کے علاقے جلب پلی میں بقر عید کے اگلے دن گائو رکھشکوں نے جانوروں کی باقیات لے جانے والی گاڑی کو آگ لگا دی۔ گائو رکھشکوں نے ہندوانہ مذہبی نعرے لگا کر ڈرائیور پر حملہ کیا اور موبائل و رقم لوٹنے کے بعد پولیس پر پتھرا ئوبھی کیا۔ادھر ریاست کرناٹکا کے شہر کمل نگر میں گائے ذبح کرنے کے الزام پر ہندوتوا انتہا پسندوں نے احتجاج کر کے دکانیں بند کرائیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق مدھیہ پردیش میں بقر عید پر گائے کے بچھڑے کو ذبح کرنے کے الزام میں 7مسلمان گرفتار کرکے 32کلو گوشت ضبط کر لیا گیا۔ڈکن ہیرالڈ کے مطابق ریاست کرناٹکا کے علاقے بیدر میں گائے ذبح کے الزام پر 4 مسلمان گرفتار کرلیے گئے اور ہندوتوا کے دبائو پر قربانی پر بھی قدغن لگا دی گئی۔دی ہندوستان ٹائمز کے مطابق عید الاضحی پر آسام کے 5اضلاع میں مویشی ذبح کرنے کے الزام میں 16سے زائد مسلمان آسام مویشی تحفظ ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیے گئے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق اڑیشہ کے علاقے ترٹول میں جگن ناتھ مندر کے قریب گائے ذبح کرنے کے الزام میں 3 مسلمان نوجوان گرفتار کرلیے گئے۔