چینی کی قیمتوں میں استحکام کیلئے وفاقی حکومت نے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کا عمل شروع کردیا

چینی کی قیمتوں میں استحکام کیلئے وفاقی حکومت نے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کا عمل شروع کردیا

ویب ڈیسک: ملک میں چینی کی قیمتوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے وفاقی حکومت نے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کا باضابطہ عمل شروع کر دیا ہے۔

 اس سلسلے میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) نے 3 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے لیے پہلا بین الاقوامی ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔

اہم نکات:
ٹریڈنگ کارپوریشن نے عالمی سپلائرز اور مینوفیکچررز سے 18 جولائی 2025 تک لفافہ بند بولیاں طلب کی ہیں۔25 ہزار میٹرک ٹن سے کم کی بولی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔درآمدی عمل سرکاری سطح پر ٹی سی پی کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔
حکومتی پالیسی اور معیارات:
وفاقی کابینہ کی منظوری کے تحت 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کی جائے گی۔درآمد کا مقصد چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانا ہے۔چینی کی درآمد پر تمام ٹیکسز سے استثنیٰ دیا گیا ہے تاکہ صارفین کو سستا ریلیف فراہم کیا جا سکے۔حکومت کی ہدایت کے مطابق صرف موٹے دانے اور اعلیٰ معیار کی چینی درآمد کی جائے گی۔شپمنٹ کے بعد چینی کے معیار کے معائنے کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔
پس منظر:
وفاقی کابینہ نے گزشتہ ہفتے چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے درآمد کی منظوری دی تھی، تاکہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔