حکومتِ پاکستان نے ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد مقامی مارکیٹ میں چینی کی دستیابی کو یقینی بنانا اور قیمتوں کو مستحکم رکھنا ہے۔
اعلیٰ سطح اجلاس کی تفصیلات:
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم یا متعلقہ وفاقی وزیر کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں چینی کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ:چینی کی قیمت میں کسی صورت اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے حکومت خود چینی درآمد کرے گی، تاکہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔درآمد شدہ چینی کو یوٹیلیٹی اسٹورز اور دیگر ذرائع سے مناسب قیمت پر عوام کو فراہم کیا جائے گا۔
ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات:
ذرائع کے مطابق حکومت نے چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دیگر اہم اقدامات کا بھی فیصلہ کیا ہے:ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جو چینی کو چھپا کر اس کی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں۔جو دکاندار یا کاروباری حضرات چینی مہنگی بیچ رہے ہیں، ان کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔انتظامیہ، ایف بی آر، اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال طریقے سے مارکیٹوں کا جائزہ لیں گی۔
پس منظر:
گزشتہ کچھ ہفتوں سے ملک کے مختلف حصوں میں چینی کی قیمت میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا، خاص طور پر ہول سیل مارکیٹ میں چینی کی قیمت 150 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ عوامی سطح پر اس مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
ممکنہ اثرات:
درآمد سے مارکیٹ میں سپلائی بہتر ہوگی اور قیمتیں نیچے آنے کا امکان ہے۔ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی سے ذخیرہ شدہ چینی مارکیٹ میں آئے گی۔اگر حکومتی اقدامات مؤثر رہے تو عید میلاد النبی اور دیگر تہواروں کے موقع پر عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔