غزہ / جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں رواں سال مئی سے اب تک کم از کم 798 فلسطینی خوراک کے حصول کی کوشش کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے 615 فلسطینی امدادی مراکز کے قریب اور 183 امدادی قافلوں کے راستے میں اسرائیلی افواج کی گولیوں یا حملوں کا نشانہ بنے۔جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی ترجمان روینا شمدا سانی نے ایک بریفنگ میں بتایا:"7 جولائی تک ہمارے پاس 798 ایسے افراد کی اموات کی تصدیق ہو چکی ہے جنہیں خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ فلسطینی شہری صرف روٹی یا امداد کے لیے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔"
تازہ حملے اور شہادتیں:
رفح شہر کے شمال مغرب میں ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی گولیوں سے 10 فلسطینی شہید اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے۔خان یونس کے السطر علاقے میں اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
بین الاقوامی ردِعمل:
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان (ASEAN) نے بھی غزہ میں اسرائیلی مظالم پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن نے مشرقی ایشیا کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں کہا:"اسرائیل گزشتہ 80 برسوں سے استثنیٰ کے باعث بے خوف ہو چکا ہے۔ یہ کھلے عام نسل کشی کر رہا ہے اور اب تو بھوکے بچوں کو مارنے کو بھی اپنی پالیسی کا حصہ بنا چکا ہے۔"انہوں نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف موثر اور فوری کارروائی کرے۔
پسِ منظر:
غزہ میں اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 35 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔اسرائیل نے امدادی قافلوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ امدادی مراکز پر بھی حملے تیز کیے ہیں۔غزہ کے شہری علاقوں میں خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے جبکہ طبی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔اقوام متحدہ نے ایک بار پھر اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کو امداد تک رسائی دے اور انسانی قوانین کی پاسداری کرے۔