ہنوئی: پاکستان اور ویتنام نے دوطرفہ تجارتی و اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اس حوالے سے دونوں ممالک کے وزرائے تجارت کی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ہوئی، جس میں کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان کے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ان کے ویتنامی ہم منصب کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ٹیکسٹائل، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور دواسازی جیسے اہم شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کی طرف پیش رفت پر بھی تفصیل سے گفتگو کی گئی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔
ویتنام کی پاکستانی مصنوعات میں دلچسپی
ویتنام نے پاکستانی چاول، ٹیکسٹائل مصنوعات اور چمڑے کے سامان میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جس سے پاکستان کی برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے ویتنام کو وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کی پیشکش کی، جو ویتنامی مصنوعات کے لیے نئے تجارتی دروازے کھول سکتی ہے۔
مشترکہ منصوبے اور نجی شعبے کی شمولیت
ملاقات میں دونوں وزرائے تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ منصوبوں اور نجی شعبوں کے مابین روابط کو فروغ دے کر دیرپا اور مؤثر تجارتی شراکت داری قائم کی جا سکتی ہے۔ فریقین نے اس مقصد کے لیے کاروباری وفود کے تبادلوں، تجارتی میلوں اور نمائشوں کے انعقاد کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔
موجودہ تجارتی حجم میں اضافہ ممکن
دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان موجودہ تجارتی حجم کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی سطح پر باقاعدہ رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا، تاکہ دوطرفہ تعاون کو عملی اور ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
ماحول خوشگوار، مستقبل کا عزم مضبوط
ملاقات ایک خوشگوار اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔