پاکستان کے جہاز رانی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے، اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے جامع پلان مرتب کرکے پیش کیا جائے
نیشنل ٹیرف کمیشن کی تنظیم نو کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں‘نئی ٹیرف رجیم کے تقاضوں کی موثر انجام دہی کیلئے ادارے کی جدید خطوط پر تنظیم نو ناگزیر ہے :وزیراعظم
اسلام آباد (آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف سے بین الاقوامی ای کامرس کمپنی علی بابا گروپ کے 6 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں علی بابا گروپ کے وفد کی قیادت انٹرنیشنل مارکیٹس کے صدر جیمز ڈونگ نے کی، اس موقع پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، چیئرمین ایف بی آر و متعلقہ اعلی افسران بھی موجود تھے۔شہباز شریف نے ای کامرس کو مزید فروغ دینے کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ علی بابا گروپ جیسے پلیٹ فارمز پر اس وقت تین لاکھ سے زائد پاکستانی مصنوعات فروخت کررہے ہیں، ای کامرس پلیٹ فارمز پر مصنوعات فروخت کرنے والے پاکستانیوں کے لیے اقدامات کیے جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جدید دور میں ای کامرس برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کا بہت بڑا ذریعہ ہے، ای کامرس حکومت کے برآمدات پر مبنی معیشت کے ویژن کی تکمیل کے لیے انتہائی اہم ہے‘ذڑؓژ ٓ’ّٓء وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی)کو بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی میں تبدیل کرنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔وزیراعظم نے پی این ایس سی کی تنظیم نو، اصلاحات اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شپنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے جہاز رانی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے، اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے جامع پلان مرتب کرکے پیش کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور پاکستان میں کارگو کی آمدو رفت کیلئے مسابقتی بنیادوں پر پی این ایس سی کے جہازوں کے استعمال کوفروغ دیا جائے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پی این ایس سی کو بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے کیلئے شعبے کے ماہرین و کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں‘علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل ٹیرف کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کی قانونی، انتظامی اور اداراجاتی ڈھانچے کی ہنگامی بنیادوں پر تنظیم نو کی ہدایت جاری کر دی۔نیشنل ٹیرف کمیشن کی کارکردگی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ وزیراعظم نے نیشنل ٹیرف کمیشن کی موجودہ فعالیت کا تھرڈ پارٹی سے آزادانہ جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیرف رجیم کے تقاضوں کی موثر انجام دہی کے لیے ادارے کی جدید خطوط پر تنظیم نو ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کمیشن کے پاس ملکی کاروبار، درآمدات و برآمدات اور مارکیٹ کے زمینی حقائق اکٹھے کرنے کی مؤثر استعداد ہونی چاہیے تاکہ پالیسیاں حقائق پر مبنی اور فوری نوعیت کی بنائی جا سکیں